متحدہ عرب امارات / مشرق وسطیٰ بیورو(نمائندگان)مشرق وسطیٰ میں جاری بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عرب ممالک نے ایران پر اسرائیل کے فوجی حملوں کی شدید اور متفقہ مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، اور ریاستوں کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان حملوں کو علاقائی اور عالمی امن کیلئےسنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا دوٹوک مؤقف
متحدہ عرب امارات نے اسلامی جمہوریہ ایران پر اسرائیلی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ”مذاکرات کا فروغ، ریاستی خودمختاری کا احترام، اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی بحرانوں کے دیرپا حل کی بنیاد بن سکتی ہے۔”یو اے ای نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنائے اور سفارتی راستوں کو مضبوط کرے۔
عمان کی وزارت خارجہ نے کہاکہ”حملہ حساس وقت میں کیا گیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی کیلئے عالمی کوششیں جاری ہیں۔اسرائیلی اقدام سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔”
کویتی وزارت خارجہ نے اسرائیلی جارحیت کو”ایرانی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی سلامتی کیلئےخطرہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام “تمام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی” ہے۔
سعودی عرب نے اسرائیل کے اقدامات کو”ایران کی خودمختاری اور سلامتی پر حملہ اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی” قرار دیا۔
مصری حکومت نے کہا”اسرائیلی حملے نے خطے میں خطرناک حد تک کشیدگی بڑھا دی ہے جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے۔”
قطر نے اس کشیدہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا”یہ اسرائیلی اقدام جارحانہ پالیسیوں کے تسلسل کا حصہ ہے جو خطے کے امن اور سفارتی کوششوں کیلئے رکاوٹ ہے۔”
اردنی حکومت نے اس حملے کو”اقوام متحدہ کے رکن ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین پامالی” قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔
عراقی حکومت نے بھی اسرائیلی حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا”عالمی برادری کو فوری، فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مزید جارحیت کو روکا جا سکے۔ یہ امنِ عالم کیلئےخطرہ ہے۔”
بحرین کی حکومت نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حل کو ترجیح دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ”بحرین کا مستقل مؤقف ہے کہ مذاکرات اور پرامن ذرائع ہی دیرپا استحکام کا راستہ ہیں۔”بحرین نے ایرانی-امریکی جوہری مذاکرات کی فوری بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ”جوہری پروگرام اور خطے کے تنازعات کے حل کیلئےجامع سفارتی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔”
عرب دنیا کا اجتماعی مؤقف واضح ہےکہ خودمختاری کی پامالی، جارحیت پر مبنی پالیسی، اور عسکری کارروائی کے ذریعے تنازعات کا حل ناممکن ہے۔عرب ممالک نے عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کے ذریعے خطے کو مکمل جنگ کی جانب دھکیلنے سے روکے اور سفارت کاری کو اولین ترجیح دی جائے۔

