واشنگٹن (واشنگٹن پوسٹ/رائٹرز) امریکا کی 18 انٹیلی جنس ایجنسیوں پر مشتمل نیشنل انٹیلی جنس کونسل کی خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر بڑافوجی حملہ بھی وہاں رجیم چینج لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مشترکہ انٹیلی جنس تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ ایران کا سیاسی اور فوجی نظام اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ اعلیٰ قیادت کے قتل یا بڑے حملوں کی صورت میں بھی اقتدار کے تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی اپوزیشن بکھری ہوئی اور منقسم ہے، اس لیے کسی ممکنہ جنگ یا حملے کے بعد اس کے اقتدار سنبھالنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
انٹیلی جنس حکام کے مطابق ایران کی مذہبی و عسکری قیادت کے پاس اقتدار کی منتقلی کے واضح طریقۂ کار موجود ہیں، جن کے تحت موجودہ نظام کو برقرار رکھا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ اگر اعلیٰ سطح کی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جائے۔
رپورٹ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں جس میں ایران کی موجودہ قیادت کو ختم کر کے وہاں اپنی پسند کی قیادت لانے کی بات کی جا رہی تھی۔
امریکی اور یورپی حکام کے مطابق ایران کے اندر ابھی تک نہ تو بڑے پیمانے پر بغاوت کے آثار ملے ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی اداروں میں ایسی دراڑ دیکھی گئی ہے جو حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ایک ماہر کے مطابق ایران کے موجودہ سیاسی نظام کا ڈھانچہ نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے اور امریکی دباؤ کے تحت بنیادی فیصلے کرنا اس نظام کے لیے انتہائی مشکل تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن ہوئی بھی تو اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا سیکیورٹی فورسز کسی عوامی بغاوت کا ساتھ دیتی ہیں یا نہیں، ورنہ موجودہ نظام کے برقرار رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

