نیویارک (اقوام متحدہ، اے ایف پی، امریکی نشریاتی ذرائع) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنا مشکل فیصلہ تھا، لیکن اگر ایسا نہ کرتے تو ہم سب مر چکے ہوتے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ ان کے لیے وزیراعظم کی حیثیت سے کیے گئے آسان ترین فیصلوں میں سے ایک تھا، کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ضروری تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران کی فوج، بحریہ، فضائیہ اور جوہری تنصیبات کو تباہ کیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کا سب سے بڑا شراکت دار قرار دیتے ہوئے ان کی قیادت کو سراہا۔
نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے نسل کشی نہیں کی بلکہ نسل کشی کو روکا ہے۔ انہوں نے غزہ میں انسانی امداد اور پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کی فراہمی کا بھی حوالہ دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے علاوہ حماس، حزب اللہ، حوثیوں، عراق اور شام میں ایران نواز ملیشیاؤں اور مغربی کنارے میں فلسطینی مسلح گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے۔
نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی متعدد ممالک کے وفود احتجاجاً جنرل اسمبلی ہال سے باہر چلے گئے۔ اس پر اسرائیلی وزیراعظم نے باقی وفود کو بھی طنزیہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مزید لوگ ہال سے جانا چاہتے ہیں تو چلے جائیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اپنی ریاست کا دفاع جاری رکھے گا اور کامیاب ہوتا رہے گا کیونکہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد نیویارک میں یہودی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ انہوں نے ممدانی سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ نے مجھے یہاں آنے سے روکنے اور خاموش کرنے کی کوشش کی، لیکن آپ مجھے خاموش نہیں کراسکتے اور نہ ہی سچ کو خاموش کرسکتے ہیں۔

