واشنگٹن/نیویارک(رائٹرز، الجزیرہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے دونوں فریقین کو جنگ بندی کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ اسرائیل پر غیر معمولی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا”اسرائیل نے معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنے کے فوراً بعد بمباری شروع کر دی۔ اگر ایران پر مزید حملے کیے گئے تو یہ جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی۔”
“پائلٹس کو فوراً واپس بلایا جائے” – امریکی صدر کا اسرائیل کو انتباہ
رائٹرز کے مطابق، نیٹو سربراہی اجلاس کیلئے دی ہیگ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا”میں ایران سے خوش نہیں ہوں، مگر اسرائیل سے شدید ناراض ہوں۔ ہم نے جیسے ہی جنگ بندی کا اعلان کیا، اسرائیل نے تاریخ کے سب سے بڑے فضائی حملے کر دیے۔”
صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنے پائلٹس کو واپس بلائے اور ایران پر بمباری نہ کرے، بصورت دیگر امریکہ اس جنگ بندی کی اخلاقی ضمانت سے دستبردار ہو جائے گا۔
ایران کی جوہری صلاحیت ختم ہونے کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ”ایران کی جوہری صلاحیت اب بنیادی طور پر ختم ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود حملہ کرنا غیر ضروری اور اشتعال انگیز عمل ہوگا۔”
نیتن یاہو کو فون، حملے روکنے کی اپیل
الجزیرہ اور ایکسوس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے ایران پر حملہ نہ کرنے کی درخواست کی تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے جواب دیا کہ”ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اسلئےجوابی کارروائی ناگزیر ہے مگر یہ محدود نوعیت کی ہوگی اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔”
12 گھنٹوں پر مشتمل جنگ بندی فریم ورک
یاد رہے کہ گزشتہ روز قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے العدید پر ایرانی میزائل حملے کے چند گھنٹوں بعد صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے مطابق ایران جنگ بندی کا آغاز کرے گا،12 گھنٹوں بعد اسرائیل حملے بند کرے گا،24 گھنٹے بعد جنگ بندی کو عالمی سطح پر باضابطہ طور پر تسلیم کیا جائے گا،دونوں فریقین سے کہا گیا کہ پرامن اور باعزت رویہ اختیار کریں.
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا”ہمارے پاس دو ریاستیں ہیں جو اتنے عرصے اور شدت سے لڑ رہی ہیں کہ شاید وہ جانتے ہی نہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔ اب وقت ہے کہ دونوں پرسکون ہو جائیں۔”

