تہران/تل ابیب (ایجنسیاں)— مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران نے اسرائیل پر ’وعدہ صادق 3‘ کے تحت چوتھا میزائل حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب دھماکوں سے لرز اٹھا اور کم از کم 63 اسرائیلی شہری زخمی ہو گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران سے اسرائیل کی طرف میزائل داغے گئے ہیں، جس کے بعد پورے ملک میں ایمرجنسی سائرن بجنے لگے اور شہریوں کو بنکرز میں جانے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔تل ابیب میں ایک 50 منزلہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق کئی میزائل آبادی والے علاقوں میں گرے جس سے شدید دھماکے اور آگ کے شعلے دیکھے گئے۔یروشلم سمیت دیگر شہروں میں بھی سائرن بجائے گئے۔اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سی این این کے مطابق 7 افراد معمولی زخمی ہوئے، جب کہ ایران کی مہر نیوز اور تسنیم نیوز کے مطابق مجموعی طور پر 63 زخمیوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ایران کے دفاعی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں سیکڑوں بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ایرانی فضائی دفاع نے دو اسرائیلی جنگی طیارے مار گرائے اور ایک خاتون پائلٹ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ایران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس کی خودمختاری کے دفاع میں کی گئی اور یہ آئندہ ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے عزم کی عملی تعبیر ہے۔
اس کشیدہ صورتحال کے بعد خطے میں مزید عسکری اور سفارتی ہلچل متوقع ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر غیر یقینی اور خونریز راستے پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ کیلئے یہ لمحہ نہایت نازک اور فیصلہ کن ہے کہ وہ آگ بھڑکانے کے بجائے سفارت کاری کی راہ ہموار کریں۔

