واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس بریفنگ میں اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایک وسیع فضائی اور بحری کارروائی کے ذریعے ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کردیا ہے۔ وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو امریکا اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دے گا۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا“ہم نے واضح کیا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ آج ہم نے یہ یقینی بنا دیا ہے کہ وہ ایسا نہ کر سکے۔ اگر ایران نےردعمل دیا توگزشتہ رات سے زیادہ شدید جواب دیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ“یہ کارروائی ایران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) کیلئےنہیں تھی بلکہ مخصوص ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کیلئےتھی۔ فوردو ہماری کارروائی کا بنیادی ہدف تھا اور ہم نے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے ہیں۔”
“آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کی تفصیلات
جنرل ڈین کین نے بریفنگ میں آپریشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ گزشتہ رات صدر کی براہ راست ہدایت پر کیا گیا۔آپریشن کا کوڈ نام “Midnight Hammer” رکھا گیا۔اس دوران ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات — فوردو، نطنز، اور اصفہان — کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے میں145 امریکی جنگی طیارے شریک ہوئے،14 Massive Ordnance Bombs (MOABs) 2 مقامات پر استعمال ہوئیں،2 درجن سے زائد ٹام ہاک میزائل اصفہان پر داغے گئے،7 B-2 بمبار طیارے بھی حملے میں شامل تھےاور آبدوزوں نے بھی حملے میں کردار ادا کیا۔
جنرل کین نے کہا“ایرانی فضائی دفاع اس حملے کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ حملہ ایرانی وقت کے مطابق 2 بج کر 40 منٹ پر کیا گیا۔ کمیونیکیشن کا استعمال کم سے کم رکھا گیا اور مختلف کمانڈ سینٹرز نے ہم آہنگی کے ساتھ کارروائی مکمل کی۔”
انہوں نے مزید کہا“ایران کے ایٹمی عزائم مکمل طور پر خاک میں مل چکے ہیں۔ اگر ایران براہ راست یا پراکسی کے ذریعے حملے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔ ہم خطے میں امریکی مفادات اور اہلکاروں کی مکمل حفاظت کریں گے۔”
اعلیٰ سطح پر خفیہ مشن
امریکی حکام نے واضح کیا کہ یہ مشن انتہائی خفیہ تھا، اور صرف چند اعلیٰ ترین حکام اس سے باخبر تھے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ“صدر ٹرمپ امن چاہتے ہیں، لیکن ایران کو بھی یہی راستہ اپنانا ہوگا۔”

