نیویارک / تہران(نمائندہ خصوصی+ایجنسیاں) —ایران نے اقوام متحدہ میں جمع کرائے گئے ایک باضابطہ خط کے ذریعے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے علیحدگی اختیار کرنے کی شدید تنبیہ جاری کی ہے۔ ایرانی مندوب نے الزام عائد کیا ہے کہ مغربی ممالک — بالخصوص برطانیہ، فرانس اور جرمنی — ایران پر بے بنیاد الزامات لگا کر معاہدے کی روح کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب سعید ایراوانی کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمع کرائے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ”اگر مغربی ممالک ایران پر یک طرفہ پابندیاں بحال کرنے کی کوششیں جاری رکھتے ہیں تو ایران NPT معاہدے سے آرٹیکل 10 کے تحت علیحدگی اختیار کرے گا۔”
ایرانی خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کسی بھی غیرمنصفانہ اور سیاسی اقدام کا متناسب جواب دے گا۔
این پی ٹی (Non-Proliferation Treaty) ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا، پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا فروغ دینا، اور جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔
ایران کے اس اعلان پر فی الحال سلامتی کونسل یا متعلقہ یورپی ممالک کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران این پی ٹی سے الگ ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور جوہری معاہدوں کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔

