تہران / تل ابیب / لندن / واشنگٹن(خصوصی رپورٹ) — ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک اور خطرناک موڑ لے لیا ہے، جب ایران نے اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے ردِعمل میں تل ابیب اور حیفہ سمیت متعدد شہروں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق، حملوں میں کم از کم 1 شخص ہلاک اور 23 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایران کے سرکاری خبررساں ادارے پریس ٹی وی نے بتایا کہ ایرانی مسلح افواج نے جمعہ کے روز مقبوضہ علاقوں کے شمال اور جنوب میں اسرائیلی فوجی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز، اور جاسوسی کے اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
ایرانی افواج کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی “آپریشن کے 17ویں مرحلے” کا حصہ تھی، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، بھاری وار ہیڈز، اور خودکش ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
ایرانی میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں ملک گیر ہنگامی الرٹس جاری کر دیے گئے اور شہریوں کو فوری طور پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔ اسرائیلی ہنگامی سروس میگن ڈیوڈ آدوم (MDA) کے مطابق 23 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب میں ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے دفاعی نظام کو توڑتے ہوئے متعدد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
ٹیلی گراف نے تل ابیب اور حیفہ سے حاصل کردہ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ علاقوں سے گہرے دھوئیں کے بادل اٹھتے نظر آئے جبکہ جنوبی نیگیو ریجن میں بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
اسرائیل کا ایران میں جوابی حملے کا دعویٰ
ایرانی حملوں کے بعد، اسرائیلی فوج (IDF) نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس نے جنوب مغربی ایران میں موجود میزائل لانچرز کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا۔”کچھ دیر قبل، اسرائیلی فضائیہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایرانی میزائل سسٹمز پر حملہ کیا۔”
اگرچہ اسرائیلی فوج نے حملے کے مقام کی وضاحت نہیں کی، تاہم بوشہر کے قریب دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں ایرانی فضائی اڈے، بیلسٹک میزائل مراکز اور ایک جوہری پاور پلانٹ واقع ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ حملے تہران، اصفہان، اور مغربی ایران کے علاقوں تک بھی پھیل گئے ہیں، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

