ایران کے میزائل حملے کے بعد اسرائیل نے حیفہ میں آئل ریفائنریاں بند کردیں

تل ابیب / تہران (عالمی خبر رساں ادارے / ٹائمز آف اسرائیل / مہر نیوز / تہران ٹائمز)ایران کے تازہ میزائل حملے کے بعد اسرائیل نے شہر حیفہ میں واقع آئل ریفائنریاں فوری طور پر بند کر دی ہیں۔بیزان گروپ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ایرانی بیلسٹک میزائل کے حملے میں گروپ کے پاور پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی تمام تنصیبات غیر فعال کر دی گئی ہیں۔

ایرانی حملے میں ریفائنری کمپلیکس پر براہ راست نشانہ لگنے کے باعث 3 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی اسرائیل کے کئی علاقوں بشمول حیفہ میں سائرن بجا دیے گئے ہیں، اور شہریوں کو ہنگامی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

اسرائیلی ڈیفنس فورس (IDF) کا کہنا ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل فضا میں موجود ہیں اور اسرائیلی حدود کی طرف بڑھ رہے ہیں۔آئی ڈی ایف کے مطابق”شمالی اسرائیل کے مختلف علاقے میزائل حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ فضائی دفاعی نظام متحرک کر دیا گیا ہے۔”

ایرانی سرکاری خبررساں ادارے نور نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے تبریز کے قریب ایک اسرائیلی F-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔تاہم اسرائیلی فوج نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ایسے کسی واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی”۔

اسرائیلی فضائیہ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر ایرانی F-14 ٹام کیٹ طیاروں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

ایران نے وارننگ جاری کی ہے. “رات کو دن کے نظارے میں بدل دیں گے”ایران کی قومی سلامتی کی سپریم کونسل نے اعلان کیا ہے کہ”اسرائیلی جارحیت کے جواب میں آج کی رات کو ہم دن کے نظارے میں بدل دیں گے۔اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر بلا اشتعال حملہ کر کے شدید اشتعال انگیزی کی ہے۔”

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ایران نے پیر کی رات ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کے تحت فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں کی بڑی تعداد فائر کی ہے۔ایران کے مسلسل جوابی حملوں کے نتیجے میں گزشتہ 3 دنوں میں اب تک 24 اسرائیلی شہری ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے، جہاں توانائی کے ذخائر، شہری انفرااسٹرکچر اور علاقائی استحکام کو براہ راست خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ عالمی برادری سے فوری، مؤثر اور غیرجانبدارانہ سفارتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں