تل ابیب(نیٹ نیوز)مالی مشکلات کے شکار اسرائیلی شہری کو ایرانی انٹیلی جنس کو ‘جوہری راز’ فروخت کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔اتوار کے روز ڈورون بوچوبزا کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی، جس میں اس پر جھوٹا دعویٰ کرنے کا الزام تھا کہ اسے نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر تک رسائی حاصل ہے۔
اتوار کے روز ڈورون بوچوبزا، جو جنوبی اسرائیل کے شہر بیر شیوا کا رہائشی ہے، کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے ایرانی انٹیلی جنس سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی اور انہیں حساس معلومات فروخت کرنے کی پیشکش کی، جبکہ اس نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ اسے نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر تک رسائی حاصل ہے۔
بوچوبزا کو فروری 2025 میں اسرائیلی پولیس اور شِن بیٹ کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے ایرانی حکومت کی انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکاروں سے رابطہ قائم کیا اور ان کی ہدایات کے مطابق کام انجام دیا، جس کے بدلے میں اسے مالی معاوضہ دیا گیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بوچوبزا کئی مہینوں تک ایرانی انٹیلی جنس ایجنٹس کے ساتھ رابطے میں رہا اور ان کی ہدایات پر متعدد سیکیورٹی سے متعلق مشنز انجام دیے، جن میں تنصیبات کی تصاویر لینا اور معلومات کی منتقلی شامل تھی۔ اس نے اپنے ایرانی رابطہ کار کو دھوکہ دیتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ اسے خفیہ اور حساس نیوکلیئر ریسرچ سینٹر تک رسائی حاصل ہے، حالانکہ اس نے درحقیقت صرف عوامی طور پر دستیاب معلومات فراہم کیں۔
تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ بوچوبزا نے مکمل شعوری طور پر ایرانی رابطہ کار سے تعلق قائم کیا اور جان بوجھ کر ایسے اقدامات کیے جو ممکنہ طور پر ملکی سیکیورٹی کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔ جنوبی ضلع کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے وکیل نے اس کے خلاف غیر ملکی ایجنٹ سے رابطے اور دشمن کو معلومات فراہم کرنے کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی۔
فردِ جرم کے مطابق، بوچوبزا نے دسمبر 2024 میں ٹیلیگرام پر ایسے ایرانی پروفائلز سے رابطہ قائم کیا جو “انٹرنیشنل سیکرٹ ایجنسی آف ایران” (ISAI) سے وابستہ تھے۔ اپنی ابتدائی پیغام رسانی میں، اس نے ایرانی ایجنٹ کو لکھا: “میں اسرائیلی ہوں، اور میں آپ کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں،” اور وضاحت کی کہ اس کی اس پیشکش کی بنیادی وجہ معاشی مشکلات اور حکومت سے عدم اطمینان ہے۔
بوچوبزا نے ایرانی ایجنٹ کو مختلف ویڈیوز اور تصاویر بھیجیں، جن میں سپر مارکیٹ میں مصنوعات کی قیمتوں کی تصاویر بھی شامل تھیں۔ اس نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ ایک “خفیہ اور حساس تنصیب” میں کام کرتا ہے۔ اس نے نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور اپنے اصل کام کی جگہ کے ایک کمیونیکیشن کیبنٹ کی تصاویر بھی منسلک کیں، لیکن دھوکہ دہی سے یہ ظاہر کیا کہ وہ “ہیوی واٹر” کے انتظامات کا ذمہ دار ہے۔ اس نے ایجنٹ کو اسرائیل سے باہر ملاقات کی تجویز بھی دی۔
فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ ان تبادلوں کے دوران، بوچوبزا کو ایرانی ایجنٹ کی طرف سے $1,057 (3,750 شیکل) مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی موصول ہوئی، جسے اس نے اپنے ذاتی ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں منتقل کیا۔
جنوری 2025 کے آخر میں، جب اسے معلوم ہوا کہ ایران کے لیے جاسوسی کے شبہے میں دو فوجیوں کو گرفتار کیا گیا ہے، تو اس نے عارضی طور پر اپنی گفتگو حذف کر دی اور ایرانی ایجنٹ کے ساتھ رابطہ منقطع کر دیا۔ تاہم، کچھ ہی دیر بعد اس نے دوبارہ رابطہ کیا اور لکھا: “ہیلو، معذرت! میں نے آپ کو بلاک کر دیا تھا، کیونکہ انہوں نے آپ کے ساتھ کام کرنے والے دو فوجیوں کو پکڑ لیا ہے، اس لیے میں نے سب کچھ حذف کرنا مناسب سمجھا۔” اس کے بعد، اس نے رضاکارانہ طور پر ایک ویڈیو بھیجی جس میں پانی کے ٹینکوں کی تعمیر کا منظر دکھایا گیا تھا، جو اس نے اپنے موبائل فون سے ریکارڈ کیا تھا۔
گرفتاری سے چند دن قبل، 5 فروری کو، بوچوبزا نے رابطہ ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھا: “موساد میرے کام کی جگہ پر آیا تھا اور کہا کہ کوئی آپ کو تفصیلات دے رہا ہے۔ میں ہماری بات چیت ختم کر رہا ہوں، یہ پیسے اس خطرے کے قابل نہیں۔” تاہم، چند دن بعد اس نے دوبارہ ایرانی ایجنٹ کو معلومات فراہم کیں، جس میں ایک ممکنہ حملے کے بارے میں اطلاع دی گئی، جو مبینہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والا تھا، اور دعویٰ کیا کہ یہ معلومات اسے “ایک اعلیٰ عہدیدار” سے ملی ہیں۔

