تہران(ایجنسیاں)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران تخریب کاریوں سے متعلق ایک ویڈیو کلپ جاری کیا ہے، جس میں مظاہروں کے دوران جدید آتشی اسلحہ کے استعمال کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
عباس عراقچی کی جانب سے جاری ویڈیو میں عوامی اور سرکاری ٹرانسپورٹ کی توڑ پھوڑ، گاڑیوں کو آگ لگانے اور شرپسند عناصر کو مہارت کے ساتھ پیٹرول بم استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں واضح طور پر منظم انداز میں تشدد اور تخریب کاری کے مناظر شامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بیان میں کہا کہ چند روز قبل امریکا میں ایک نہتی اور بے گناہ نوجوان خاتون کو قریبی فاصلے سے گولی مار کر قتل کیا گیا۔ ان کے مطابق خاتون ایک امریکی شہری اور تین بچوں کی ماں تھی، جسے امریکی امیگریشن ایجنٹ نے ہلاک کیا، جبکہ امریکی انتظامیہ نے واقعے کے بعد خاتون کو داخلی دہشت گرد قرار دیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے اپنے دفاع کا معاملہ قرار دیا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کھلے عام امریکی عوام کو تنبیہ جاری کی، جبکہ ایران میں پولیس اہلکار حقیقی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان دہشت گرد عناصر کی نگرانی وہ لوگ کر رہے ہیں جنہیں سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو موساد کے ایجنٹ قرار دے چکے ہیں، اور اس حوالے سے ایران کے پاس ناقابل تردید ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے سوال اٹھایا کہ کیا ایران میں ہونے والا احتجاج واقعی آزادی کے لیے ہے اور کیا ایسے مناظر امریکی انتظامیہ اپنے ہی ملک کی سرحدوں کے اندر کبھی برداشت کرے گی۔

