ایرانی پالیسی نے خطے کے حالات بدل دیے ہیں: الجزیرہ

دوحہ ( الجزیرہ)غیر ملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ ایران بظاہر اپنی حکمت عملی تبدیل کر کے عالمی اقتصادی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کی طرف جاتا نظر آ رہا ہے۔کیمبرج یونیورسٹی میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی پروفیسر روکسین فرمان کے مطابق خلیجی ملکوں پر حملے کر کے امریکا کو جنگ بند کرنے پر آمادہ کرنے کی ایرانی پالیسی مؤثر ثابت ہوتی نظر نہیں آ رہی، تاہم اس حکمت عملی نے حالات اور توازن کو بدل دیا ہے۔

ان کے مطابق ایران یہ ثابت کر چکا ہے کہ وہ نہ صرف دنیا میں تیل کی قیمتوں کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ آبنائے ہُرمُز کی بندش کے ذریعے آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت بھی روک سکتا ہے۔

روکسین فرمان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی فجیرہ پورٹ پر حملہ ہو چکا ہے اور اب ممکنہ طور پر سعودی عرب سے بحیرہ احمر تک جانے والی تیل کی پائپ لائنیں اس کا اگلا ہدف بن سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی پائپ لائنوں پر حملوں کا امکان زیادہ ہے کیونکہ اب خلیج پر حملہ اصل مقصد نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اس بحران کے اثرات واشنگٹن میں اسٹاک مارکیٹ اور پٹرول پمپس تک محسوس کیے جائیں۔