ایک طویل عرصے سے ہم پاکستانی اس تلخ حقیقت کے ساتھ جی رہے ہیں کہ سرکاری اداروں میں اہلیت سے زیادہ سفارش، دیانتداری سے زیادہ تعلقات اور کارکردگی سے زیادہ اثر و رسوخ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، ملک کو چلانے والی بیوروکریسی کا موجودہ ڈھانچہ اسی بنیاد پر کھڑا نظر آتا ہے کہ جس کا ہاتھ اوپر تک پہنچ جائے، اس کے لئے ہر دروازہ کھلا ہے اور جو میرٹ،انصاف اور کتاب کے مطابق چلتا ہے اسے ہٹا دیا جاتا ہے،ابھی کچھ دن پہلے ہی اس کی مثال نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین شہریار سلطان اور ممبر ایڈمن عمر سعید چودھری ہیں، بہترین کارکردگی اور اپ رائٹ ہونے کا انہیں یہ صلہ دیا گیا کہ چشم زدن میں ہٹا دیا گیا،ایسا ہوتا رہے گا تو پھر اچھے افسر کیا کریں گے؟ مگر تاریخ میں کبھی کبھی ایسے موڑ بھی آتے ہیں جب ایک فرد، ایک فیصلہ یا ایک مضبوط ارادہ پورے نظام کی سمت بدل دیتا ہے، آج ایف بی آر جس موڑ پر کھڑا ہے،اس تبدیلی کے پس منظر میں ایک ایسی انتظامی سوچ ہے جس نے دہائیوں پرانے سفارشی کلچر کو پہلی سنجیدہ ضرب لگائی ہے اور یہ ضرب لگانے والے ایک تجربہ کار،سسٹم کی گرمی سردی سے گزرنے والے افسر راشد محمود لنگڑیال ہیں جو ان دنوں ایف بی آر کے چیئر مین ہیں۔
کینیڈا سے پاکستان آنے کی تیاریوں میں ہوں، روزنامہ ”جنگ“ میں راشد لنگڑیال کا ایک بولڈ انٹرویو دیکھا،ایک اچھے افسر کی باتیں پڑھ کر مزہ آیا، اگر ہم یہ ماننے کو تیار ہوں کہ ادارے نیت، قابلیت اور شفافیت سے چلتے ہیں، تو پھر ایف بی آر میں حالیہ برسوں کے اقدامات اس بات کی روشن مثال ہیں کہ تبدیلی ”ناممکن“ نہیں صرف ارادہ اور نظام دونوں کی درستی ضروری ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہمیشہ سے سیاسی مداخلت کا شکار ادارہ سمجھا جاتا تھا،یہاں تبادلے، پوسٹنگز، انسپکشنز اور کلیدی تعیناتیاں اکثر و بیشتر اس بنیاد پر ہوتی تھیں کہ کون کس کے قریب ہے، کون کہاں تک رسائی رکھتا ہے، اور کس کی سفارش کتنی طاقتور ہے۔ برسوں تک یہی تاثر زبان زدِ عام رہا کہ ایف بی آر کے معاملات ”کارکردگی“ سے زیادہ ”رابطوں“ کے تابع ہیں، مگر گزشتہ ایک برس کے دوران حالات نے ایک فیصلہ کن کروٹ لی ہے۔اس کروٹ کا آغاز اُس وقت ہوا جب ایف بی آر میں ایک نیا پرفارمنس مینجمنٹ نظام متعارف کرایا گیا، یہ نظام محض ایک انتظامی قدم نہیں تھا، بلکہ بیوروکریسی کی ذہنی ساخت کو بدلنے کی کوشش تھی، اسے کچھ عرصہ قبل نافذ کیا گیا اور جلد ہی اس کے نتائج نے پورے ملک کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
پاکستان کے سرکاری محکموں خصوصی طور پر ایف بی آر میں سالانہ کارکردگی رپورٹیں ایک بے مقصد، رسمی، اور غیر موثر عمل بن چکی تھیں،ہر سال ستانوے فیصد افسر ”آؤٹ اسٹینڈنگ“ اور ننانوے فیصد ”ایماندار“ قرار پاتے،اگر سب کچھ اتنا ہی شاندار تھا تو پھر سوچنے والی بات کہ ہمارے ادارے اس حد تک کمزور کیوں ہو گئے؟اگر سب لوگ ”بہترین“ تھے تو پھر ٹیکس چوری، کرپشن، بدانتظامی اور ناقص کارکردگی کی شرح آسمان سے باتیں کیوں کرتی تھی؟ یہ سوال خود بتاتا ہے کہ پرانا نظام صرف ایک خانہ پُری تھا جس میں حقیقت کی جگہ مصلحت اور میرٹ کی جگہ تعلقات نے لے لی تھی۔
ایف بی آر کا نیا پرفارمنس ماڈل اس لحاظ سے انقلابی ہے کہ اس میں پہلی بار Peers-Based Evaluation یعنی ”گمنام ساتھی افسروں“ کی رائے کو بنیاد بنایا گیا ہے، کوئی افسر کسی کو جانتا ہے یا نہیں، پسند کرتا ہے یا نہیں یہ سب غیر اہم ہو گیا،نظام یہ طے کرتا ہے کہ کون اہل ہے کون دیانت دار،کون ذمہ دار ہے، کون کارکردگی دکھا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر کون حساس ذمہ داریوں کے قابل ہے؟ہر چھ ماہ بعد ساتھی افسر اْس کو انٹیگریٹی اسکور دیتے ہیں ایک ٹیکنیکل پینل اس کی تکنیکی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے حتمی درجہ بندی A سے E تک بریکیٹس میں کی جاتی ہے پوری کارروائی ڈیجیٹل ہے،کسی کے لئے اسے بدلنا ممکن نہیں یہ شفافیت اس نظام کی اصل طاقت ہے۔یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ”اصلاحات ہو رہی ہیں“ مگر جب اعداد و شمار بولتے ہیں تو دعویٰ حقیقت بن جاتا ہے۔
ان لینڈ ریونیو میں،موجودہ اصلاحات سے پہلے صرف 26% کلیدی عہدوں پر اعلیٰ کارکردگی والے افسر موجود تھے ا صلاحات کے بعد یہ شرح 89% تک پہنچ گئی،کسٹم میں اعلیٰ ریٹنگ والے افسروں کا تناسب صرف 29% تھااصلاحات کے بعد یہ شرح 94% ہو گئی یہ وہ تبدیلی ہے جو الفاظ سے زیادہ حقائق کی زبان میں بولتی ہے اور اس طرح سفارش کے دروازے بند ہونے لگے ہیں۔اس اصلاحاتی سفر میں سب سے اہم پہلو وہ ذہنی انقلاب ہے جو ادارے کے اندر آیا ہے، اب افسر نہ صرف سفارش کروانے سے گریز کرتے ہیں،بلکہ سیاسی دباؤ کے امکانات بھی تیزی سے معدوم ہو رہے ہیں، اب ایک افسر جانتا ہے کہ اگر وہ ”مختصر راستہ“ استعمال کرے گا تو اسے نقصان ہو گا، فائدہ نہیں۔یہ پہلی بار ہوا ہے کہ سیاسی شخصیات بھی پوسٹنگ کے معاملے میں محتاط ہو گئی ہیں،کچھ واقعات نے تو یہ بھی ثابت کیا کہ بعض وزراء نے اپنی ہی جانب سے کی گئی سفارش واپس لے لی۔
اب یہ کہنا زیادتی ہو گی کہ یہ تبدیلی محض ایک نظام کی بدولت آئی ہے،ہر مضبوط نظام کے پیچھے ایک مضبوط سوچ ہوتی ہے، چیئر مین ایف بی آر راشد لنگڑیال کا سول افسر کے طور پیشہ وا رانہ سفر پہلے ہی یہ ثابت کر چکا تھا کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں، نظم و ضبط، شفافیت اور فیصلے کی ہمت ساتھ لے کر جاتے ہیں،پنجاب کے مختلف محکموں میں ان کی پچھلی تعیناتیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ایک ایسے افسر ہیں جو ”نظام“ کو طاقت دیتے ہیں ”افراد“ کو نہیں،جہاں بھی انہیں کام ملا، انہوں نے دو چیزوں کو ہمیشہ مقدم رکھا، اہلیت پر مبنی فیصلے،ذاتی تعلقات سے بے نیاز کام، ایف بی آر میں آ کر یہ سوچ پورے ادارے تک منتقل ہوئی اور حیران کن طور پر چند مہینوں میں سارے توازن بدل گئے۔
راشد لنگڑیال کے دیئے گئے اس نئے نظام کی اصل خوبصورتی یہ بھی ہے کہ اس میں نہ کسی وزیر کا اختیار چلتا ہے، نہ کسی سیکرٹری کا، کوئی فون کال اثر رکھتی ہے اور نہ کوئی ”خصوصی رعایت“ جب نظام خود چیزوں کا فیصلہ کرنے لگے، تو میرٹ کسی فرد کی صوابدید نہیں رہتی، ایک خودکار ضابطہ بن جاتا ہے۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم نے اس ماڈل کو پورے سول سروس کیڈر تک پھیلانے کی منظوری دے رکھی ہے، اگر ایسا ہو گیا تو سول سروس کے اندر وہ دروازے بند ہو جائیں گے جن سے سفارش، لابنگ، کمزور کارکردگی اور سیاسی اثر و رسوخ داخل ہوتا رہا ہے،آج ایف بی آر سے اٹھنے والی یہ روشنی شاید کل پولیس، تعلیم، صحت اور باقی سول اداروں تک پہنچے،اور اگر ایسا ہو گیا تو یہ محض انتظامی اصلاح نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کی سمت کا تعین ہو گا، چیئرمین صاحب اس محنت کے دوران ہمیں اپنی شاعری سے محروم نہ رکھیں، ویل ڈن راشد محمود لنگڑیال ویل ڈن۔

