نیویارک(ایجنسیاں)امریکا سے تعلق رکھنے والے ایلون مسک اور بھارتی نژاد سرمایہ کار ونود کھوسلا کے درمیان نسل پرستی کے الزامات پر لفظی جنگ چھڑ گئی۔ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب مسک نے ایک پوسٹ میں کہا کہ دنیا کی آبادی میں سفید فام افراد تیزی سے اقلیت بنتے جا رہے ہیں۔
ونود کھوسلا نے اپنے ٹوئٹ میں مسک پر الزام لگایا کہ وہ ‘WAGA’ یعنی ‘وائٹ امریکا گریٹ اگین’ کی حمایت کر رہے ہیں اور نسل پرستی کو فروغ دے رہے ہیں، ساتھ ہی ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ایکس کے ملازمین سے استعفیٰ دینے کی اپیل بھی کی۔
ایلون مسک نے جوابی ٹوئٹ میں کھوسلا کو سخت اور توہین آمیز جملوں کا نشانہ بنایا اور اپنی ذاتی زندگی کے حوالے دیے، بتایا کہ ان کی شریکِ حیات آدھی بھارتی ہیں اور ایک بیٹے کا نام معروف بھارتی نژاد نوبیل انعام یافتہ سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مسک پہلے بھی سفید فام مردوں کے حوالے سے اپنی پوسٹس پر تنقید کا سامنا کر چکے ہیں اور اسٹار لنک کے لائسنس کے معاملے پر بھی نسلی امتیاز کے الزامات سامنے آئے تھے۔

