انسانی شعور نے ہمیشہ سے انسان کیلئے آسانیاں اور آزادیاں پیدا کرنے کے خواب دیکھے ہیں ۔افلاطون کی’’جمہوریہ‘‘میں بھی ایسا ہی خواب دیکھا گیا تھا کہ شاعر، فلاسفر اگر حکمران ہو تو معاشرے زیادہ پُرامن رہ سکیں گے۔ تھامس مور کا سولہویں صدی کا آئیڈیا ’’یوٹوپیا‘‘ بھی ایک ایسی خیالی جنت تھی کہ جس میں انسان کی محنت و مشقت کم ہو اور آرام و سہولت زیادہ ہو۔ ہمارے دور میں جبکہ ایشیا اور یورپ اپنی اپنی جنگوں سے پریشان ہیں معیشت کو سنبھالنا دنیا بھر میں مشکل ہو رہا ہے تیسری دنیا کے ممالک میں غربت ایک دائمی مسئلہ بن چکا ہے اسی مسئلے نے پاکستان کو بھی اپنے پنجوں میں جکڑا ہوا ہے مگر امریکہ میں بیٹھے ارب پتی صنعتکار اور اختراع کار ایلون مسک نے پیشین گوئی کی ہے کہ وہ دن دُور نہیں جب انسانوں کیلئے دائمی فراوانی (Sustainable Abundance) کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ انسانوں کو کام کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی دولت کی اس معاشرے میں سرے سے کوئی اہمیت اور قدر ہی نہیں ہوگی انسان جو چاہے گا اسے وہ میسر ہو جائیگا۔
عالمی مذاہب میں آخرت کے بعد جنّت کا تصور سادہ معنوں میں یہی ہے کہ خدا سے انعام پانے والے اور دنیا کے امتحان میں سرخرو رہنے والوں کو جنت میں بھیجا جائیگا جہاں دودھ، شہدکی نہروں اور حوروں کی فراوانی ہوگی۔ جنت کے اس مذہبی تصور کو ایلون مسک کے خیال میں اس دنیا میں عملی شکل دینا ممکن ہے۔ مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت اور ان سے بننے والے انسان نما روبوٹ تمام انسانی ضروریات کو پورا کریںگے دلچسپ بات یہ ہے کہ چند سال پہلے ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رحجان کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ انسانیت کو تباہ کر دے گی مگر اب وہ اسی مصنوعی ذہانت کو مستقبل کی انسانی ترقی کا ضامن سمجھتا ہے۔
ایلون مسک کے خیال میں وُہ وقت آنے والا ہے جب دنیا بھر میں ترقی کی شرح 10 فیصد سالانہ سے بڑھ جائیگی ۔یاد رہے کہ پاکستان میں یہ شرح 2سے 3فیصد ہے، ایلون مسک نے ڈیووس سوئٹزر لینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور انسانی روبوٹ دنیا بھر سے غربت کا خاتمہ کر دیں گے ۔ یاد رہے کہ ایسی جادوئی دنیا کی کہانیاں عربی، فارسی اور اردو ادب میں کثرت سے ملتی ہیں جب مافوق الفطرت جن وُہ کام کرتے ہیں جو انسان نہیں کر پاتا۔ اکثر ان کہانیوں میں بعض انسان ان جنّوں کو ’’کیل‘‘ لیتے یا اپنے احکامات کا غلام بنا لیتے ہیں کہ وُہ انکے کہنے پر ہر کام کرنے پر تیار ہوتے ہیں ۔ایلون مسک کے انسان نما روبوٹ بھی طلسماتی کہانیوں کے وُہ جن ہونگے جو انسانوں کی جگہ سارا کام کیا کرینگے۔ یاد رہے کہ الف لیلوی اور طلسماتی کہانیوں میں شہزادے جادوئی قالینوں پر بیٹھ کر اڑا کرتے تھے اب شاید انسان قالین پر بیٹھ کر تو نہ اُڑے مگر اڑن گاڑیوں کی تیاری ہو رہی ہے، دبئی کی کئی بلڈنگز کی چھتوں پر ان کیلئے اسٹیشن بھی بنائے جا رہے ہیں۔
ایلون مسک کی دائمی فراوانی کی خیالی جنت پر دنیا بھر میں تنقید بھی ہو رہی ہے مگر انکی اپنی کمپنیاں جہاں مریخ پر آبادی کی تیاریاں کر رہی ہیں وہاں چاندپر بھی نخلستان اُگانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایلون مسک نے پہلی الیکٹرک کار ٹیسلا بناکر کاروباری اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں طوفان مچا دیا تھا پھر اس نے خلائی سفر کرکے زمین سے آگے کی دنیا کی تسخیر کا راستہ کھولنے کی کوشش کی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ٹیسلا الیکٹرک کار کی مسابقت میں چینی ساخت کی سستی الیکٹرک کاروں کے آنے کے بعد سے ایلون مسک نے ٹیسلا کو چلانے کیلئے ایک انسان نما روبوٹ Optimus تخلیق کیا ہے یہ روبوٹ خود گاڑی چلائے گا اور اسے فضا سے کنٹرول کیا جائے گا ۔حال ہی میں Optimusکو نمائش کیلئے پیش کیا گیا بظاہر وُہ ابھی ابتدائی شکل میں ہے اور مشکل کام کرنے سے قاصر ہے مگر ماہرین کا خیال ہے کہ کچھ عرصے میں یہ روبوٹ اس قدر چالاک اور ہوشیار ہو جائیگا کہ انسانوں کو خود گاڑیاں چلانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
ایلون مسک کی یوٹوپیا پر تنقید کرتے ہوئے نیو یارک ٹائمز میں پروفیسر الیکس ایماس نے کہا کہ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ خیالی جنّت کے سب سے بڑے حصہ دار تو خودایلون مسک ہونگے مگر انہوں نے سوال یہ اٹھایا کہ فراوانی سے پیدا ہونیوالی دولت کو انسانوں میں تقسیم کیسے کیا جائے گا؟ پروفیسر ایماس کے خیال میں جب انسان کام نہیں کریں گے تو ڈیمانڈ اور سپلائی (طلب و رسد) کا نظام ہی ختم ہو جائے گا جس سے انسان مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کا محتاج ہو کر رہ جائیگا گویا انسان مصنوعی ذہانت کی کمپنی سے دولت کی فراوانی میں حصّہ لینے کا اہل تو ہوگا مگر اس کا انحصار کمپنی پر ہوگا کہ کمپنی مالک اس فراوانی میں کتنے بڑے حصہ دار ہوں گے اور عام لوگ کتنے؟ ایلون مسک کی ٹیسلا کمپنی کی خاتون چیئرپرسن روبن ڈینہم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی ایک ایسی دنیا بنانا چاہتی ہے جہاں اشیا اور خدمات و سہولیات کی فراوانی ہو جائے۔فراوانی اور وسائل و اشیاء کی کثرت کے نظریے کا خالق ایلون مسک نہیں بلکہ انیسویں صدی میں کارل مارکس نے بھی یہ خواب دیکھا کہ سرمایہ داری نظام میں جو مجموعی سرمایہ ہے اسے عوام کا اجتماعی سرمایہ ہونا چاہئے مشہور ماہر معیشت جان کینز نے بھی 1930 ء میں کہہ دیا تھا کہ جس رفتار سے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے اور مالیاتی منافع جات بڑھ رہے ہیں اس کے نتیجے میں انسان کو ہفتے میں صرف 15گھنٹے کام کرنا پڑے گا باقی وقت اس کیلئے فری ہوگا۔
ایلون مسک کی خیالی جنّت، طلسماتی دنیا اور خوابوں کی سر زمین سے بہت ملتی ہے، ایک تقریر میں مسک نے کہا کہ روبوٹس سے آگے نئے روبوٹس بنتے جائیں گے۔ جس طرح طلسماتی اور افسانوی دنیا میں جو آقا سوچتا ہے اسکا غلام جن اس کو وہ شے لاحاضر کرتا ہے چاہے وہ بے موسمی پھل ہو یا کسی تاج و تخت کا کنگرہ، بالکل اسی طرح مسک کہتا ہے کہ انسان جو سوچے گا روبوٹ اسکو لا کر حاضر کر دے گا۔ اپنی دائمی فراوانی کی تھیوری کی وضاحت کرتے ہوئے ایلون مسک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ترقی لامحدود‘‘ پھر کہا کہ دنیا میں ہر انسان کو عالمی طور پر زیادہ سے زیادہ آمدنی ہوگی اور آمدنی اتنی زیادہ ہوگی کہ انسان دائمی فراوانی سے بھی آگے شاندار اور حیران کن ترقی سے فائدہ اٹھا سکے گا ۔ ایلون مسک کی خیالی جنت کا خواب بڑا ہی خوش نما ہے مگر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار مسک کی خواہشات سے بہت سست ہےاور ایسی جنت تشکیل پانے میں ابھی وقت لگے گا۔ اسی لئے نیویارک ٹائمز میں امریکہ کے صدارتی امیدوار اور بائیں بازو کے دانشور رہنما سینیٹر برنی سینڈرز نے یہ مناسب تبصرہ کیا کہ مسٹر مسک نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ انکی نئی سوسائٹی کام کیسے کرے گی؟ اگر لوگ کام ہی نہیں کریں گے تو ٹیکس کیسے دیں گے پھرٹیکس کے بغیر حکومتیں کیسے چلیں گی اور بہت ہی بڑا سوال یہ کہ دولت کی تقسیم کیسے ہوگی برنی سینڈرز کو کیا ملے گا اور مسک کو کیا؟
دائمی غربت کا شکار ملکوں کا بھی یہی سوال ہوگا کہ فرسٹ ورلڈ کہیں تھرو ورلڈ کا حصّہ ہڑپ نہ کر جائے پاکستان کو کیا ملے گا اور دائمی فراوانی کی جنّت امریکہ کو کیا؟

