ایمان مزاری اور ہمارالڑکھڑاتا، سسکتا عدالتی نظام!

ایک بات تو طے ہے کہ اس وقت موجودہ حکومت کی کوئی اپوزیشن نہیں بلکہ یہ اپنی اپوزیشن خود ہے،،، یعنی یہ اپنے عوام کے خلاف ایسے ایسے اقدامات اور کارروائیاں کر جاتے ہیں کہ خود ہی تنقید کا باعث بن جاتے ہیں،،، اور پھر سوشل میڈیا پر ان کے خلاف اس قدر شور اُٹھتا ہے، کہ ان کے اچھے کاموں پر بھی پردہ پڑ جاتا ہے،،، آپ اس حوالے سے نوجوان وکلاءایمان مزاری اور ہادی علی کیس کو دیکھ لیں،،، جس میں دونوں میاں بیوی کو 17،17سال قید کی سزا سنائی گئی،، اور مقدمہ کون سا؟ اُس کا بھی کسی کو علم نہیں،،، کہا جاتا ہے کہ متنازع ٹویٹ کیس،،، حالانکہ پورا ”ایکس “ ایسے ٹویٹس سے بھرا پڑا ہے،،، پھر ان پر چند دن میں مقدمہ درج ہوا،،، اور چند گھنٹوں میں سزا سنا دی گئی،،، سزا سے پہلے خفیہ مقدمے میں گرفتاری ،، یہ ہے مختصر احوال ہمارے ملک میں ریاست کا اپنے مخالفین پر مقدمہ قائم کرکے سزا دینے کا۔۔۔میں یہ نہیں کہتا کہ ایمان مزاری پر سچا کیس بنا یا جھوٹا،،، لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اس کیس میں بھی جلد بازی ہی دکھائی گئی ہے،، اور ایسا کرکے سرکار نے ایک بار پھر اپنے لیے جگ ہنسائی کا اہتمام کیا ہے، ،،

سوال یہ ہے کہ کیا آزاد ریاستیں ایسے اقدامات کرتی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر میں یہی کہوں گا کہ یہ عوام کا پاکستان نہیں بلکہ ”شہباز شریف کا پاکستان“ ہے،،، یا ان کے وزیروں کا پاکستان ہیں ،،، جو مذکورہ کیس میں ایسی ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ سر شرم سے جھک جائیں،،، جیسے ہمارے وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر ردِ عمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’جو بوؤگے وہی کاٹو گے۔‘جبکہ اُن کی گرفتاری کے حوالے سے بھی بعض رپورٹس آرہی ہیں کہ اُنہیں بہت برے انداز میں گرفتار کیا گیا کہ انسانیت بھی شرما جائے،،، اور پھر سزا دینے سے پہلے ہی پکڑ لیا، حالانکہ جب اُن کو سزا ہو ہی رہی تھی تو گرفتار کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ یا جب سزا ہو جاتی تو آپ اُس وقت اُسے گرفتار کر لیتے۔

کیا اس سے یہ نہیں لگتا کہ آپ خود انقلاب کو دعوت دے رہے ہیں،،،اگر ایسا ہے تو پھر اس چیز کو آپ بھگتیں گے،،، کیوں کہ جب عدالتیں حکومتی اشاروں پر چلنے لگتی ہیں،،، یا عدالتیں انصاف فراہم نہیں کرتیں تو پھر لوگ خود ہی انصاف لینے کی کوششیں کرنا شروع کر دیتے ہیں،،، جس سے خانہ جنگی بڑھتی ہے،،، اور پھر آپ خود ثابت کر رہے ہیں کہ جو آپ نے 26ویں اور 27ویں ترمیم کروائی تھی وہ آپ نے ذاتی مفادات کے لیے کروائی تھی،،، اُس کا عوام کے مفادات کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے، بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اس وقت وطن عزیز ہٹلر کا جرمنی اور اسٹالن کا روس لگ رہا ہے،،، کیوں ان جیسی گرفتاریوں سے تو یوں لگتا ہے، جیسے آپ تو آپ ہیں،،، اور آپ نے تو بتانا تھا نا ں کہ ہم ہٹلر اور اسٹالن کے پیروکار ہیں ،،،سزا ہو یا نہ ہو ، ہم نے پکڑنا ہے،،، اور سزا دینی ہے، آپ کو تو ویسے اپنے برادر ملک بنگلہ دیش سے ہی سبق سیکھ لینا چاہیے، جب وہاں حسینہ واجد کی حکومت تھی تو اُس وقت وہاں پر بھی اپنے مخالفین کو سزائیں دینے کے لیے بڑے بڑے خفیہ جیل خانے رکھے گئے تھے،،، کیا آپ نے بھی تو ایسا نہیں کر رکھا؟

بہرحال ابھی بھی وقت ہے کہ چھوٹی چھوٹی حرکتوں سے اپنا قد چھوٹانہ کریں ،،، دوسرے ملکوں میں بھی حکومتیں ڈنڈی مارتی ہیں،،، لیکن وہ شاذو نادر کیس ہوتا ہے،،، مگر آپ تو ہر کیس میں ایسا کرنا شروع ہوگئے ہیں،،، ضیاءالحق کے دور کو آپ دیکھ لیں،،، اُس وقت بھی ایک آدھ فیصلہ عدالتوں سے اپنی مرضی کا کروایا جاتا تھا، لیکن اب دیکھ لیں، 100میں سے ایک آدھ کیس کا فیصلہ میرٹ پر آتا ہے، جبکہ باقیوں کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے،، ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ ہمارے مخالفین کا نام نہ تو ٹی وی پر آئے اور نہ ہی اخبارات میں پرنٹ ہو، لیکن ایسے کیسز کے بعد تو آپ خود اُن کی کروڑوں روپے کی ایڈورٹائزنگ کر دیتے ہیں،، یعنی ایمان مزاری کے ساتھ جو کچھ آپ نے کیا ہے، اُس پر تو آپ نے خود موقع دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر عوام آپ کے کپڑے اُتارے۔ اگر آپ اس کیس کو روٹین میں ڈیل کرتے ہیں،، خواہ آخر میں سزا ہی کیوں نہ ہوجاتی ،، لیکن اس کیس کو روٹین کا کیس سمجھتے تو کم از کم اتنی جگ ہنسائی نہ ہوتی۔

لیکن اس کے برعکس آپ نے تو ہر قدم پر بتایا کہ آپ اس وقت طاقت کے عروج پر ہیں،،، اور آپ نے بتایا کہ اس طاقت نے آپ کا خراب کر دیا ہے،،، اور آپ نے جس طرح ایک اکیڈمی میں ہوتا ہے کہ نو سر جیسی باتیں تو سننی ہی نہیں ہیں،،، تو پھر دیکھ لیں کہ آئندہ آپ کے ساتھ کیا ہوگا؟ دنیا کے بڑے بڑے ڈکٹیٹر بھی آپ کی طرح یہ سوچ کر سویا کرتے تھے کہ ہمیں کیا ہو سکتا ہے؟ ہاں سوال یہ ضرور ہے کہ انقلاب کب آئے گا،اور کیسے آئے گا،،، مگر آپ اس انقلاب کو ایندھن مہیا کرنے کا باعث ضرور بن رہے ہیں،،،

بہرحال جمہوریت کا حسن یہی ہوتا ہے کہ ریاست سخت سوالات کا جواب طاقت سے نہیں بلکہ دلیل سے دیتی ہے۔ اگر ایمان مزاری کے مو¿قف میں غلطی ہے تو اسے قانونی اور فکری سطح پر چیلنج کیا جانا چاہیے، نہ کہ ہتھکڑیوں کے ذریعے۔ کیونکہ ہتھکڑی دلیل کو کمزور اور بیانیے کو مضبوط کر دیتی ہے۔ایمان مزاری کی کہانی دراصل پاکستان کے مجموعی سیاسی کلچر کی عکاس ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اب تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا ہے یا دبانا۔ ہم آئین میں آزادی اظہار کو مانتے ہیں، مگر عملی طور پر اس سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں، مگر اختلاف کو بغاوت سمجھ لیتے ہیں۔اور پھر ایمان مزاری کا معاملہ کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ ریاست اور سماج کے درمیان تعلق کا امتحان ہے۔ اگر پاکستان ایک بالغ جمہوریت بننا چاہتا ہے تو اسے ایمان مزاری جیسی آوازوں سے لڑنے کے بجائے انہیں سننا سیکھنا ہو گا۔ کیونکہ ریاستیں آوازوں کو دبانے سے نہیں، اعتماد اور مکالمے سے مضبوط ہوتی ہیں۔

ہمیں یہ زاویہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ایمان مزاری ان بوڑھے ماں باپ کی آخری امید تھی۔ اس آخری اُمید کو 17 سال قید کی سزا دیدی گئی ہے۔ یہ سزا پیکا ایکٹ کے تحت دی گئی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت میں ایمان مزاری کی والدہ ڈاکٹر شیریں مزاری وفاقی وزیر تھیں اور اُس دور میں بھی ایمان پر مقدمے قائم ہوتے تھے۔ ایمان اکثر تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتی تھی اور اُنکی والدہ صاحبہ اپنے دفاع میں کہتیں کہ میں اپنی بیٹی کے سیاسی خیالات پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتی۔ پھر عمران خان کی حکومت بدل گئی تو انکے کئی ساتھی بھی بدل گئے۔ڈاکٹر شیریں مزاری کی سیاسی وفاداری تبدیل کرانے کیلئے ان پر ایک جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔ اس مقدمے میں اُنکی ضمانت ہو گئی تو انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس ناانصافی پر ایمان مزاری نے اُسوقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں کچھ سخت باتیں کہہ دیں۔ باجوہ صاحب غصے میں آگئے۔ 26 مئی 2022ءکو ایمان مزاری کیخلاف ایک افسر کی درخواست پر اسلام آبادکے تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا۔ مقدمہ عدالت میں پہنچا تو ایمان کی وکیل زینب جنجوعہ نے جنرل باجوہ کے بارے میں کہے گئے الفاظ پر افسوس کا اظہار کر دیا اور عدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔ ستمبر 2023ءمیں ایمان پر ایک اور مقدمہ درج ہو گیا اور پھر یہ سلسلہ چلتا ہی چلاگیا۔ کمزور اور بے بنیاد مقدمات کے باعث ایمان کو گرفتاری کے بعد رہائی مل جاتی تھی لیکن پھر پیکا ایکٹ 2025ءمنظور ہو گیا۔26 ویں اور 27ویں آئینی ترمیم آگئی۔ پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات کی سماعت شروع ہوئی تو ایمان کا خیال تھا کہ انہیں چھ سات ماہ کیلئے جیل بھیجا جائیگا۔ شائد اسے اندازہ نہیں تھا کہ اُسکا جرم بہت بڑا تھا۔ وہ صرف بدتمیز نہیں تھی بلکہ دو وزرائے اعظم کو عدالت میں طلب کروا چکی تھی۔ کئی طاقتور لوگ اسکی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا اس غصے کے باعث ایمان اور ہادی کو عمر قید سے بھی بڑی سزا سنا کر اور بھاری بھرکم جرمانہ عائد کر کے دراصل یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان سافٹ لوگوں کیلئے ہارڈ اسٹیٹ بن چکا ہے۔ یہ سافٹ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنا نظریہ نافذ کرنے کیلئے بندوق نہیں اُٹھاتے بلکہ پرامن سیاسی و قانونی جدوجہد کرتے ہیں۔جب ریاست ایسے سافٹ لوگوں کیساتھ بھی دہشت گردوں جیسا سلوک کرے تو سمجھ لیجئے کہ ریاست اپنے غصے کے باعث کمزور ہو چکی ہے۔ایمان مزاری کے مخالفین اُسے دہشت گردوں کا ساتھی کہتے ہیں۔ انکا دعویٰ ہے کہ ایمان مزاری کی حمایت کرنے والوں کو بھی جلد سبق سکھا دیا جائیگا۔ وہ یاد رکھیں ایک حاملہ خاتون وکیل کو 17 سال قید کی سزا سنا کر پاکستان کو مضبوط نہیں بنایا جا سکتا۔

بہرکیف سوال صرف یہ نہیں کہ قانون کیا کہتا ہے، سوال یہ بھی ہے کہ قانون کا اطلاق کیسے ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان مزاری کا کیس محض ایک قانونی معاملہ نہیں رہتا بلکہ سیاسی اور اخلاقی بحث بن جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر واقعی قانون سب کے لیے برابر ہوتا تو پھر بڑے طاقتور حلقوں کی زبان سے نکلنے والے بیانات بھی اسی کسوٹی پر پرکھے جاتے۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ قانون کی گرفت کمزور پر سخت اور طاقتور پر نرم رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایمان مزاری کو گرفتار کر کے حکومت نے شاید یہ سمجھا کہ ایک آواز خاموش ہو جائے گی، مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ایمان مزاری زیادہ نمایاں ہو گئیں، ان کا نام زیادہ لوگوں تک پہنچا اور ان کے مؤقف کو زیادہ توجہ ملی۔ یہ تاریخ کا پرانا سبق ہے کہ اختلاف کو دبانے سے اختلاف ختم نہیں ہوتا، بلکہ پھیلتا ہے۔اسلئے شہباز شریف صاحب ہوش کے ناخن لیں،،، اور ایمان مزاری کو رہا کرنے کے آرڈر کریں ورنہ یہ کیس اُن کیلئے گلے کی ہڈی بن جائیگا!