ایمان مزاری کا جسٹس سرفراز ڈوگر کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع

اسلام آباد(نامہ نگار)ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی انسدادِ ہراسانی کمیٹی کی سربراہی سے جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو ہٹانے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور شکایت جمع کرا دی۔

ایمان مزاری نے ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے ’تشویشناک واقعے‘ کے بعد اپنی ابتدائی شکایت میں اضافہ جمع کرایا ہے۔ ان کے مطابق شکایت درج ہونے کے چند گھنٹے بعد جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو ’من مانی اور بدنیتی‘ سے ان کے اختیارات سے محروم کر کے ان کی جگہ جسٹس انعام امین منہاس کو مقرر کر دیا گیا۔

ایمان مزاری نے اپنی اضافی شکایت میں الزام لگایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے مختلف شعبہ جات اور رجسٹرار آفس نے ان کی شکایت وصول کرنے سے انکار کیا جس کے بعد انہوں نے براہِ راست مجاز اتھارٹی کو شکایت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس رویے نے عدالتی نظام میں شفافیت کی کمی اور خواتین کے خلاف امتیازی رویے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

شکایت میں مزید کہا گیا کہ جسٹس سرفراز ڈوگر نے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی کی تشکیل پر اثر انداز ہو کر واحد خاتون جج کو ہٹا دیا، جس نے شکایت وصول کرنے کی ہمت کی تھی۔ ایمان مزاری نے کہا کہ ان کے مقدمات اچانک چیف جسٹس کے سامنے مقرر کر دیے گئے اور ٹرانسفر درخواست مسترد ہونے پر مقدمہ ملتوی کر دیا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ہراسگی شکایت درج ہونے کے فوراً بعد ان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی میں مقدمہ درج کیا گیا اور وزارت داخلہ نے ایک خصوصی استغاثہ ٹیم نامزد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ایمان مزاری نے سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی شکایت پر فوری کارروائی کرے اور چیف جسٹس کے خلاف بد نیتی پر مبنی طرزِ عمل کا نوٹس لے۔

دریں اثنا، اسلام آباد بار کونسل میں ایمان مزاری کا وکالت کا لائسنس منسوخ کرنے کے لیے ریفرنس دائر کر دیا گیا۔ ایڈووکیٹ عدنان اقبال کی جانب سے دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایمان مزاری ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور مہمات میں حصہ لیا اور کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں سے تعلقات رکھتی ہیں۔

ریفرنس میں بار کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایمان مزاری کے خلاف انکوائری شروع کر کے ان کا لائسنس مستقل طور پر منسوخ کیا جائے اور انکوائری مکمل ہونے تک معطل رکھا جائے۔ یہ ریفرنس لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 اور متعلقہ رولز کے تحت دائر کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں