ایک بار پھر کوئٹہ سے روانہ ہونے والی بس کو روک کر نو افراد کو ان کی صوبائی شناخت کے بعد قتل کر دیا گیا ہے۔ مقتولین میں جن کو اب شہدا کہا گیا ہے دو ایسے بھائی بھی ہیں جو اپنے والد کی وفات کے باعث ان کی تدفین کے لئے آ رہے تھے۔ خبروں کے مطابق ان دونوں کو ان کی فیملیوں کے سامنے زبردستی اتار کر لے جایا گیا اور فائرنگ کرکے مقتول بنا دیا گیا۔ ان مقتولین کی بہن کا بیان چھپا کہ ہم تو ایک جنازے کے لئے گھر جا رہے تھے اب تین جنازے اٹھانا ہوں گے۔ یہ کوئی پہلا واقع نہیں جو اس نوعیت کا ہو، اس سے قبل کئی ایسی وارداتیں ہو چکی ہیں جن میں پنجابیوں کو ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر مارا گیا، اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فتنہ الہندوستان کی سازش ہے، لیکن اس شناخت سے پہلے تو ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ پنجابی دہائیوں سے بلوچستان میں بس رہے ہیں اور دہائیوں ہی سے قتل ہوتے چلے آ رہے ہیں، ہمارے ایک دوست ہیں جو ان دنوں اپنے حواس میں نہیں، تاہم ان کے دورِ طالب علمی میں ترقی پسندطلباء تحریک والے طلباء سے قریبی مراسم رہے،اسی حوالے سے وہ بلوچستان کی طلباء تنظیموں کے بعض عہدیدار حضرات سے بھی ملے اور ایک بار قریباً ایک ماہ تک ان کے مہمان بھی رہے۔ اس دور میں (بقول دوست) کسی قسم کی عصبیت نہیں تھی اور بلوچ طلباء صرف حقوق کی بات کرتے تھے۔ اس دور میں ان طلباء تنظیموں کی بات نہ سنی گئی۔ حالانکہ ان سے مذاکرات کی تجویز ایک سے زیادہ بار پیش کی گئی الٹا ان پر بھی ملک دشمنی کا الزام لگا دیا گیا اور بالآخر یہ طلباء روپوش ہو گئے۔ بلوچستان کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہر برسراقتدار طبقے نے بلوچ سرداروں پر ہی انحصار کیا کہ اس صوبے میں دیگر صوبوں کی نسبت سرداری نظام کی جڑیں مضبوط ہیں اور اسی امر نے بلوچستان کے عوام کی آواز براہ راست نہ سننے دی، ہر بار سردار ہی غالب رہے اگرچہ دھڑے بدلتے رہے، پھر جائز محرومیوں کو ایکسپلائٹ کرنے والے بھی آ گئے اور نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد قبائلی انتقامی عمل شروع ہوا جو ملک دشمنی تک بڑھ گیا اور یہیں سے بھارتی ایجنسیوں نے فائدہ اٹھایا اور اب بات اس حد تک بڑھ چکی کہ کئی بار پنجابیوں کو قتل کرکے تعصب کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی گئی جو اب تک اس لئے کامیاب نہیں ہو سکی کہ پنجاب میں اب تک پاکستانیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، اگر دانشور حضرات ذرا توجہ دیں تو دشمنوں کے پروپیگنڈے کے زیراثر بیرون ملک پاکستان نژاد حضرات میں یہ تاثر پھیلانے کی کوشش جاری ہے کہ پاکستان صرف پنجاب ہے، اگرچہ یہ پروپیگنڈہ تاحال متاثر نہیں کرپایا لیکن کب تک، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ جن گھروں سے جوان (کماؤ پوت) مردوں کے جنازے اٹھتے ہیں ان کے تاثرات کیا ہوں گے؟
میں نہ صرف ایک پاکستانی بلکہ تحریک پاکستان کی اولین صفوں کے اس مجاہد باپ کا بیٹا ہوں جس نے اپنی فیملی کو نظر انداز کرکے تحریک میں حصہ لیا اور جان ہتھیلی پر لئے پھرے اور پھر وہ وقت آیا جب وہ بھی دولتانہ،ممدوٹ اور نون گروپوں کی سیاست کی نظر ہو گئے اور ان کی وفات بھی مزدوری کرتے میوہسپتال کی عام وارڈ میں علاج کے دوران ہوئی، میں جو خود بھی بن کے رہے گا پاکستان کی تحریک کا گواہ ہوں اپنے اس والد کا بہترین علاج نہ کرا سکا اور روزنامہ امروز کے صحافی کی حیثیت سے اپنے ذاتی تعلقات ہی کے باعث کچھ سہولت دلا سکا۔ میں نے یہ حوالہ کسی ذاتی غرض سے نہیں دیا،فقط یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ ہم پنجابیوں کے تو خون میں پاکستانیت رچی بسی ہے، اسی لئے ہم نفرت کا نشانہ ہونے کے باوجود بھی کبھی تعصب کا مظاہرہ نہیں کرتے اور ہماری حالت یہ ہے کہ محمد حنیف رامے (مرحوم) جیسے دانشور کو سیاسی الزام تراشیوں کے حوالے سے ”پنجاب کا مقدمہ“ کے نام سے کتاب لکھنا پڑی تھی۔ ہماری کیسی بدقسمتی ہے کہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بنتے وقت ملک کی حکمرانی خان اور سیاست سندھی کے پاس تھی لیکن نفرت کا رخ پنجابیوں کی طرف رہا، جو اب تک جاری ہے۔
میں درحقیقت حالات سے دکھی ہوں کہ ایسے حادثات ہونے لگے ہیں، ان نوجوانوں کا جرم صرف یہ تھا کہ روزگار کے لئے پاکستان ہی کے ایک حصے میں رہائش پذیر تھے، ایسے تو پنجاب میں لاکھوں افغان، بلوچ اور پٹھان رہائش پذیر ہی نہیں بڑے بڑے کاروباروں اور جائیدادوں کے مالک ہیں، کیا کبھی ان کو تعصب کا نشانہ بننا پڑا؟ البتہ یہ پنجابی پاکستانیت کے فخر پر تعصب سے تو پاک ہیں لیکن مسلکی منافرت ان کو آپس میں لڑا رہی ہے، حتیٰ کہ حالات کی نوعیت یہ ہے کہ عاشورہ محرم میں ملک کی عجیب سی حالت نظر آئی اور یوں محسوس ہونے لگا کہ دشمن ہم پروار کرنے والا ہے اور ہم اس کے خوف سے ایسے انتظامات کرنے پر مجبور ہیں کہ ماتمی جلوسوں اور مجالس کے اردگرد چڑیا بھی پر نہ مار سکے۔
بلوچستان میں مزید نو گھروں کے چراغ بجھا دیئے گئے ان کی وفات اور غیر حاضری کے باعث ان کے پسماندگان کی جو حالت ہوگی اس کا اندازہ لگایا ہی نہیں جا سکتا اتنا سنگین سانحہ ہوا، صوبائی حکومت کے اکابرین کی طرف سے روائتی بیان جاری ہو گئے اور اب شاید امداد کا بھی اعلان ہو جائے لیکن کیا یہ ان جوانوں کا بدل ہو سکتا ہے؟ دکھ کی بات یہ ہے کہ ماضی سے پیدا کئے گئے اس بگاڑ کا جواب دہشت گردی ہے، صرف فوج کے ذمہ چھوڑ دیا گیا، سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما اقتدار کی کشمکش میں مبتلا ہیں، ان سب کے بیانات اور اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید یہی حضرات اس ملک کی قسمت کے والی ہیں، اگرچہ ایسا نہیں ہے ان کو اپنا اقتدار پیارا ہے اور جو باہر ہیں وہ بھی پھر سے ان کی جگہ لینے کے لئے بے قرار ہیں، ان کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ بگاڑ کو سدھارنے کے لئے اتفاق کی ضرورت ہے اور یہی عمل یہ نہیں کرتے۔
سب حضرات بارباریہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ مسائل کا حل مذاکرات ہیں، یہی بات بھارت، اسرائیل، افغانستان اور امریکہ و ایران کے حوالے سے کہی جاتی ہے لیکن ایسا ہو نہیں رہا شاید ارادے اور نیت کی کمزوری ہے۔ پاکستان خصوصاً بلوچستان کے حوالے سے بھی یہی کہا جاتا ہے، لیکن دکھ تو یہ ہے کہ ایسا ہوا نہیں، حالات روز بروز خراب ہوتے چلے گئے، استحصالی نظام اور طبقات نے شعوری جدوجہد کے حامل طلباء سے بھی با ت نہ کی کہ ان طلباء کے لئے سردار اور حکمران دونوں ہی مسائل کا باعث تھے، اب وہ طلباء جو کبھی بلوچستان کی محرومیوں کے حوالے سے بات کرتے تھے، جوان سے ادھیڑ عمر ہو کر فتنہ الہندوستان کے آلہ کار بن چکے ہونگے بلکہ ہیں اور اب بات جنگی نوعیت کی بن گئی ہے، میں تو اب بھی یہی سوچتا ہوں کہ مفاد پرستوں اور مفاد پرستی سے بالاتر ہوکر قومی اتفاق رائے پیدا کرکے ہی ایسے مسائل سے عہدہ برآ ہوا جا سکتا ہے،اگر عاشورہ محرم کے لئے اتنا کچھ کیا گیا کہ پرامن رہا حالانکہ ماتمی حضرات میں حامی و مخالف شامل ہیں تو پھر صوبائیت اور لسانیت جیسے امراض کیلئے متحدہ اور مشترکہ کوشش کیوں نہیں کی جا سکتی۔ فوج اپنا فرض ادا کررہی، قربانیاں پیش کررہی ہے ہمارے یہ سیاست دان مفادات اور تعصبات کو بالا طاق رکھ کر ملکی امن کیلئے بات چیت اور کوشش کیوں نہیں کرسکتے۔ میں اپنے ان سب رہنماؤں کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے نظام کو خطرہ نہیں عوام لٹ چکے، ان کا اتنا تو حق ہے کہ امن سے رہیں اور دو روٹیاں کھا سکیں۔

