البرٹا(نمائندہ خصوصی)کینیڈا میں ہونے والے آئندہ وفاقی ضمنی انتخابات میں ایک منفرد سیاسی مظاہرہ سامنے آیا ہے جہاں البرٹا کے حلقہ بیٹل ریور-کروفٹ میں 209 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے ہیں ، جو کہ کینیڈین تاریخ میں ایک نشست پر سب سے زیادہ امیدواروں کا نیا ریکارڈ ہے۔
یہ نشست سابق رکن پارلیمنٹ ڈیمین کیورک کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تاکہ کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر پیئر پولیئور دوبارہ ہاؤس آف کامنز میں داخل ہو سکیں۔ یاد رہے پولیئور کو اپریل میں عام انتخابات کے دوران اپنے دیرینہ حلقہ کارلٹن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تاہم ان کی پارلیمنٹ واپسی کی کوشش ایک عوامی احتجاج کا مرکز بن گئی ہے جس کے پیچھے انتخابی اصلاحات کیلئے سرگرم گروہ “لانگیسٹ بیلٹ کمیٹی” ہے۔
لانگیسٹ بیلٹ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ انتخابی نظام میں سیاسی جماعتیں عوام کی حقیقی نمائندگی سے قاصر ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کا اختیار پارلیمنٹ کی بجائے عوامی اسمبلی کو دیا جائے۔ اسی مہم کے تحت انہوں نے اس حلقے میں اپنے 200 امیدواروں کو نامزد کیا، جن میں سے بیشتر نے کاغذات جمع کرا دیے۔
اتنے زیادہ امیدواروں کی موجودگی سے بیلٹ کی لمبائی ایک میٹر تک پہنچ چکی ہے، جو ووٹرز کیلئے نہ صرف الجھن کا باعث بن سکتی ہے بلکہ ووٹوں کی گنتی میں تاخیر کا بھی امکان ہے۔ الیکشنز کینیڈا کے ترجمان میتھیو مکینا نے تصدیق کی ہے کہ ادارہ صورتحال سے نمٹنے کیلئےسادگی کے اقدامات پر غور کر رہا ہے، اور اضافی عملے کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ ابتدائی گنتی جیسے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
پیئر پولیئور نے اس احتجاجی حکمتِ عملی کو “فراڈ” قرار دیتے ہوئے انتخابی قوانین میں فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ہاؤس کے لیڈر اسٹیون میکنن کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو طویل بیلٹ والے احتجاج کو روکے۔
میکنن کے دفتر نے بھی تصدیق کی ہے کہ لبرل پارٹی اس صورتحال پر سنجیدہ ہے اور قانون سازی میں ترمیم پر غور کر رہی ہے۔
پارلیمانی کمیٹی کے سامنے چیف الیکٹورل آفیسر اسٹیفان پیرو نے بھی تجویز دی ہے کہ ایسے افراد پر سزائیں عائد کی جائیں جو جان بوجھ کر یا ترغیب دے کر متعدد نامزدگی فارموں پر دستخط کرواتے ہیں۔ فی الحال، نظام میں کسی ووٹر کو متعدد امیدواروں کے فارم پر دستخط کرنے کی اجازت ہے۔
حلقے میں نامزدگی کی آخری تاریخ پیر تھی جبکہ ووٹنگ 18 اگست کو ہوگی۔ بیٹل ریور-کروفٹ اب نہ صرف ایک انتخابی میدان ہے بلکہ عوامی احتجاج اور انتخابی اصلاحات کی علامت بن چکا ہے۔

