بادشاہ، تم کبھی نہیں بھولے، سکھ یاتریوں کی آمد، پالیسی پر غور لازم

اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ لکھنے کو جی نہیں چاہتا، اس کے باوجود لکھنا پڑتا ہے۔ آج ایسی ہی کیفیت ہے اور قلم اٹھانے پرمجبور ہوں گزشتہ (جمعہ) روز اپنے پیارے بھائی جہانگیر بدر(بادشاہ) کی سالانہ برسی کی تقریب میں شرکت سے یوں بھی دل اداس تھا، بادشاہ کی یاد سے کبھی غافل تو نہیں رہا لیکن جب ایسی کوئی تقریب ہو تو پھر بہت کچھ یاد آ جاتا ہے۔ ایسا ہی اس تقریب کے موقع پر بھی ہوا، محفل میں دوستوں اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک تھی، اب تو ان میں جہانگیر کے دونوں صاحبزادوں کے دوستوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی، پارٹی کے سینئر رہنما نوید چودھری، چودھری منظور اور حاجی عزیز الرحمن چن سمیت متعدد حضرات تھے اور بہت سے غیرحاضر بھی کہ وہ اللہ کو پیارے ہو کر عالم برزخ میں بادشاہ سے گپ شپ کررہے ہوں گے۔ بہت سے دیرینہ دوستوں سے ملاقات ہوئی ان میں عامر راجہ ایڈووکیٹ بھی ہیں، بزرگ کہتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبیؐ کا فرمان ہے کہ جس جانے والے نے دنیا میں اپنے پیچھے نیک اولاد چھوڑی وہ خوش نصیب ہے، بادشاہ ایسا ہی ہے کہ اس کے دونوں صاحبزادے ذوالفقار علی بدر اور جہاں زیب بدر ایسی نیک اولاد میں سے ہیں اور انہوں نے والد محترم کو بھولنے نہیں دیا، اس موقع پر محترم مجیب الرحمن شامی کی شرکت بھی ہوئی اور حسن نثار حاضری لگوا کر تشریف لے گئے۔

جہاں تک بادشاہ کی یونیورسٹی ٹولی کا تعلق ہے تو اس میں سے صرف میرا بھائی الحاج میاں محمد اکرم بھی تھا کہ رشتہ اٹوٹ ہے، البتہ عرفان اشرف پیر جی اور انجم سہیل اس بار غیرحاضر تھے، جو خود بھی علیل ہیں۔

جہانگیر بدر کا سیاسی قد کاٹھ بہت بڑا تھا اور اس کی بڑی صفت وفاداری اور دوست نوازی تھی، طلباء سیاست سے جماعتی سیاست میں آنے والے بادشاہ نے جماعت کی خاطر صعوبتیں بھی برداشت کیں اور ایک سے زیادہ بار جیل کاٹی، بلکہ وہ اس وقت جیل ہی میں تھے جب ان کو پہلی اولاد بڑے بیٹے کی ولادت کی خبر دی گئی اور انہوں نے بے ساختہ اللہ کا شکر ادا کیا اور اس کا نام اپنے لیڈر کے نام پر ذوالفقار علی رکھا، جو اب ماشاء اللہ بیرسٹر ذوالفقار علی بدر ہے، جہانگیر بدر ایسی شخصیات میں سے تھا جو اپنا اصل نہیں بھولتے چنانچہ ان کی دوستی بھی ایسی ہی پکی ہوتی وہ اپنا شہری (اندرون لاہور) والا لہجہ اور عمل تبدیل نہیں کر پائے تھے۔ پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر سمیت جنرل سیکرٹری کے عہدے پر ہوتے ہوئے بھی لاکھوں کو ان کے نام و مقام سے جانتے اور پکارتے تھے، روانی میں ایک شخصیت کا ذکر تو بھول ہی گیا اور وہ حافظ محی الدین ہیں جو اوائل کے دوستوں میں سے ہیں، اپنی علالت کے باوجود آئے اور شرکت کی، بدرکے حوالے سے اتنا کچھ لکھا اور بتایا جا سکتا ہے کہ ایسے کئی کالم لکھنا پڑیں، اس لئے آج اسی پر اکتفا کرتا ہوں کہ اجتماع میں ایک کم ظرف اور بدفطرت شخص کی وجہ سے بدمزہ بھی ہوا، اس کا غالباً دماغ ٹھکانے نہیں کہ دوست دشمن کی پہچان کھو بیٹھا اور خودغرضی سے خود فریبی کی حد تک پہنچ چکا اللہ اسے صحت عطا کرے۔

میں نے دو روز قبل سکھ یاتریوں کی آمد اور روانگی کے حوالے سے تحریر کیا اور بتایا تھا کہ یاتریوں میں ہندوتوا بھارتی حکومت کی طرف سے ایک آدھ ”شریر“ بھی شامل کیا جاتا ہے، جو اپنی حرکتوں سے اہل کاروں کو مشتعل کرکے کوئی سین بنانے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک عورت بھارتی حکومت کے اعلیٰ افسر کی اہلیہ اس سال اور اس سے قبل گزشتہ برس بھی فضول جھگڑے کرتی رہی ہے لیکن اس بار تو ایک بڑا واقع ہوا، جو سوہنی، مہینوال کی یاد دلا گیا، ہوا یوں کہ جب سکھ یاتریوں کو واہگہ کی سرحد سے اٹاری کی طرف الوداع کیا گیا تو ریکارڈ میں موجود تعداد سے ایک یاتری کی کمی سامنے آئی جو خاتون ہیں، یہ ایک گمشدہ یاتری ہوگئی اور ہمارے متعلقہ محکموں کے ہاتھ پیر بھول گئے پھر ایک بڑی ٹیم ( جے۔ آئی ۔ ٹی سٹائل) بنا کر خاتون کی تلاش شروع کر دی گئی اس کا سراغ شیخوپورہ کے ایک گھر تک ملا لیکن اس گھر کا مرد اور وہ خاتون نہیں تھے اس کے بعد وہ دونوں آگے اور یہ عملہ ان کی تلاش میں پیچھے تھا۔ ان کے موبائل فون بند ملتے رہے اور تلاش کامیاب نہ ہوئی اور بالآخر جمعرات کی شب اطلاع ملی کہ خاتون نے محبت سے مجبور ہو کر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ویزا لے کر یاتریوں کے ساتھ آئی اور لاہور سے چپ چاپ اپنے چاہنے والے کے ساتھ فرار ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ گم ہونے والی 48سالہ سرجیت کور ہے جس نے مسلمان ہو کر شیخوپورہ کے شہری ناصر حسین سے نکاح کرلیا اور یہ نکاح 5نومبر کو ہوا جبکہ اس کی گمشدگی 13نومبرکو واپسی کے وقت ہوئی۔

یہ گمشدگی اور پھر اطلاع و سراغ اور عدالت میں حاضری جیسے عمل پھر کئی سوال چھوڑ گئے ہیں جس میں سب سے بڑا سوال رواداری کے جذبے کے ساتھ سہولتیں بہم پہنچانا ہے کہ ایک خاتون یاتری دیگر یاتریوں سے الگ ہوئی اور خاموشی سے جا کر نکاح کرلیتی ہے اور یاتریوں کو کوئی فکر نہیں ہوتی، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خاتون اپنے کسی رشتہ دار یا عزیز و اقارب کے ساتھ نہیں تھی اور باقاعدہ منصوبہ بنا کر اکیلی آئی اور دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے ویزا بھی جاری کر دیا، اس وجہ سے یہ لازم ہو گیا کہ یاتریوں کی آمد و رفت ویزے کے اجراء اور ان کی واپسی تک کے عمل پر پھر سے غور کیا جائے تاکہ ایسا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو جو راتو ں کی نیند حرام کر دے۔ بہتر ہوگا کہ وزارت خارجہ تفصیل سے جائزہ لے اور آئندہ سے یاتریوں کو کسی بھی تقریب کے لئے انفرادی ویزا جاری نہ کیا جائے، بلکہ یاتریوں سے کہا جائے کہ وہ اپنے رشتہ داروں اور شہردار محلے والوں کے الگ الگ گروپ بنا کر آپس میں سے ایک جتھہ دار منتخب کرلیں اور یوں گروپوں کو ویزے جاری کئے جائیں اور جتھہ دار ذمہ دار بھی ہو، اس طرح نظم و ضبط بھی برقرار رہ سکتا اور ایسے کسی واقع سے بھی سامنا نہیں ہوگا کہ کوئی انفرادی طور پر ویزا لے کر آئے اور مشکل پیدا کرے، کسی بھی بڑی تقریب کے موقع پر ہزاروں افراد کی آمد کے باعث پاکستان کے متعلقہ ادارے بہت محنت کرکے اچھے انتظام کرتے ہیں تاہم ایک خاتون کے پراسرار طور پر گم ہونے اور پھر نکاح کر لینے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پالیسی اور انتظام میں سابقہ تجربات کی روشنی میں یاتریوں کی اجتماعی آمد اور بڑی تقریبات کے لئے پوری پالیسی پر پھر سے غور کیا جائے اور یہ فرض وزارت خارجہ کو وزارت داخلہ کے تعاون سے ادا کرنا ہوگا۔