اوٹاوا (اشرف خان لودھی سے)کینیڈا کے وزیرِ خزانہ فرانسوا-فلپ شامپین آج وزیرِاعظم مارک کارنی کی زیرِ قیادت نئی لبرل حکومت کا پہلا بجٹ پیش کررہے ہیں جسے حکومت نے “نسلوں پر اثر ڈالنے والا” اور ملکی معیشت کی نئی سمت طے کرنے والا بجٹ قرار دیا ہے۔
مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ اگر حزبِ اختلاف بجٹ مسترد کرتی ہے تو وہ قبل از وقت انتخابات کیلئے تیار ہیں”میں سو فیصد پُراعتماد ہوں کہ یہ بجٹ اسی لمحے کیلئےتیار کیا گیا ہے، اور یہ ملک کے بہترین مفاد میں ہے”۔
وزیرِاعظم مارک کارنی، جو سابق گورنر بینک آف انگلینڈ رہ چکے ہیں نے کہا کہ یہ بجٹ کینیڈا کو انحصار سے مزاحمت (resilience) کی معیشت کی طرف لے جانے کیلئےتیار کیا گیا ہے۔
وزیرِاعظم کارنی نے ایشیاکے دورہ مکمل کرکے واپس آنے کے بعدکہا”ہمارے پاس وسائل موجود ہیں کہ ہم اپنی معیشت کو ایک مضبوط اور پائیدار بنیاد پر استوار کر سکیں۔ یہ بجٹ ہمارے اگلے سو سال کی سمت طے کریگا”۔
وزیرِ خزانہ شامپین کے مطابق یہ بجٹ کینیڈا کی معیشت کو درپیش ٹیرف بحران سے نکالنے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کیلئےمالی سہولتیں فراہم کرنے پر مرکوز ہوگا۔“یہ ایسا بجٹ ہوگا جو یاد رکھا جائے گا۔ کینیڈین عوام نے ہم سے بڑے اور جرات مندانہ فیصلوں کی توقع کی ہے، اور ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں۔”
“بجٹ میں متوقع اہم اعلانات”
50 ارب ڈالر مقامی انفراسٹرکچر، رہائش اور ٹرانسپورٹ کیلئے
9 ارب ڈالر دفاعی اخراجات کیلئے
13 ارب ڈالر “بلڈ کینیڈا ہومز” ایجنسی کیلئے
2 ارب ڈالر اونٹاریو میں چھوٹے نیوکلیئر ری ایکٹرز کے منصوبے کیلئے
5 ارب ڈالر اسٹریٹجک ریسپانس فنڈ کیلئے
3.6 ارب ڈالر تین سالہ عارضی ای آئی (روزگار انشورنس) اصلاحات کیلئے
1.8 ارب ڈالر وفاقی پولیسنگ نظام کی بہتری کیلئے
مزید برآں، بجٹ میں غیر ملکی ماہرین، خصوصاً امریکا سے ہنرمند افرادی قوت لانےکیلئےایک ارب ڈالر مختص کیے جانے کا امکان ہے، جب کہ مسلح افواج اور قومی سلامتی کے بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
سیاسی لحاظ سے، لبرل حکومت کو ایوانِ زیریں میں اکثریت حاصل نہیں اور بجٹ کی منظوری کیلئےاسے حزبِ اختلاف کے کم از کم تین اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔ کنزرویٹو پارٹی نے بجٹ خسارہ 42 ارب ڈالر تک محدود رکھنے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقی خسارہ 100 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
بلو کبیکوا نے پینشن اور صحت کے شعبے میں زیادہ فنڈز کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ این ڈی پی نے اعلان کیا ہے کہ اگر بجٹ میں کفایت شعاری (austerity) کے آثار نمایاں ہوئے تو وہ اس کی مخالفت کریگی۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق بجٹ کا بڑا حصہ سرمایہ جاتی اخراجات (capital spending) پر مبنی ہوگا یعنی بنیادی ڈھانچے، توانائی، اور صنعتی پیداوار پر جب کہ انتظامی اخراجات (operational spending) میں کمی کی جائے گی تاکہ اگلے تین برسوں میں وفاقی بجٹ متوازن کیا جا سکے۔
اقتصادی ماہرین کے درمیان اختلاف موجود ہے کچھ کے نزدیک کینیڈا کی مالی صورتحال نازک ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ ملک اب بھی جی 7 ممالک میں مالی طور پر مستحکم حیثیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق”جی 7 کے بعض ممالک کو مالی بحران کا سامنا ہے، مگر کینیڈا ان میں شامل نہیں۔”
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجٹ کی منظوری میں سیاسی مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں، تاہم اس میں شامل ترقیاتی اقدامات کینیڈا کی معیشت کو نئے دور میں داخل کرنے کا عندیہ دیتے ہیں۔

