اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کا بجٹ نافذ ہونے کے ساتھ ہی درآمدی اشیا پر 100 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکسز عائد کر دیے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس ضمن میں متعدد ایس آر اوز (Statutory Regulatory Orders) جاری کر دیے، جن کے تحت عام استعمال کی اور پُرتعیش اشیا پر بھاری ریگولیٹری ڈیوٹیاں عائد کی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق لنڈے کے کپڑوں اور جوتوں کی درآمد پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے۔غیر ملکی فلموں اور ڈراموں کی درآمد پر 3 ہزار روپے فی منٹ کی ڈیوٹی نافذ کی گئی ہے۔آرٹیفیشل جیولری پر 32 فیصد، جبکہ کاسمیٹکس، پرفیومز، آفٹر شیو، پری شیونگ مصنوعات پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگا دی گئی ہے۔
موٹر سائیکل رکشہ پر 10 فیصد اور پان کے پتے پر 400 روپے فی کلو ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔اسٹیمڈ تمباکو کی درآمد پر 40 فیصد، جبکہ سگریٹس، سگار، تمباکو اور اس کے متبادل اشیا پر 20 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔100 سے زائد اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی 30 فیصد سے بڑھا کر 36 فیصد کر دی گئی ہے۔
2,419 اشیا پر درآمدی ڈیوٹی 20 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد کر دی گئی ہے۔96 مصنوعات پر ریگولیٹری ڈیوٹی 15 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دی گئی ہے۔5 سے 10 سال پرانے کمبائنڈ ہارویسٹرز پر 10 فیصد، جبکہ 10 سال سے پرانے پر 20 فیصد ڈیوٹی نافذ کی گئی ہے۔688 پُرتعیش اشیا پر درآمدی ڈیوٹی میں 5 فیصد سے لے کر 50 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق یہ اقدامات زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ، درآمدات میں کمی، اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کیلئےکیے گئے ہیں۔ تاہم، ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ان نئے ٹیکسز کے باعث مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہےجبکہ عام شہری کی قوت خرید مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے تحت حکومت نے درآمدی اشیا پر بھاری ٹیکسز لگا کر ریونیو بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے اثرات آنے والے ہفتوں میں مارکیٹ اور صارفین پر نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے۔

