اوٹاوا(نمائندہ خصوصی)کینیڈا کی لبرل جماعت نے ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کی ہے جب آماندیپ کور سودھی نے برامپٹن سینٹر سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہو کر نئی تاریخ رقم کی۔ وہ 21ویں صدی میں پیدا ہونے والی اُن چند خوش نصیب افراد میں شامل ہو گئی ہیں جنہوں نے کم عمری میں عوامی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔

امندیپ سودھی کا خاندانی تعلق بھارتی پنجاب کے ضلع موگا کے قصبہ بگھا پورانا سے ہے.ٹورنٹو میں پیدا ہوئیں اور وہیں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو سے سیاسیات میں ڈگری حاصل کی اور قانون و عوامی پالیسی میں مہارت حاصل کی۔ انتخابی میدان میں قدم رکھنے سے قبل وہ ایک قانونی اسسٹنٹ کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔
امندیپ سودھی کی حلف برداری کی تقریب اوٹاوا میں منعقد ہوئی، جس میں معززین پارٹی رہنما اور مختلف کمیونٹیز سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں امندیپ سودھی نے کہا”یہ میرے لئے اعزاز اور فخر کی بات ہے کہ میں کینیڈین عوام کی نمائندگی کر رہی ہوں۔ میں نوجوانوں، خواتین، اور تمام اقلیتوں کی آواز بن کر اُن کے حقوق اور بہتری کیلئے ہر سطح پر کام کروں گی۔”
ان کی شاندار کامیابی پر معروف کمیونٹی رہنما ہردم مانگٹ نے اُنہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی۔ اُنہوں نے کہا”امندیپ سودھی ایم پی ان کے والد جونی سودھی اور خاندان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کی انتخابی مہم کی ٹیم کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے امندیپ سودھی کی حلف برداری کی تقریب میں بھی شرکت کی۔”
لبرل پارٹی کی قیادت اور عوامی حلقوں نے ان کی جیت کو نہ صرف نوجوانوں کیلئے امید کی کرن قرار دیا ہے بلکہ کینیڈا میں تنوع، شمولیت اور مساوی مواقع کے عزم کا مظہر بھی قرار دیا ہے۔

