برامپٹن:دوسرے سالانہ “برام ہیکس 2025 اسپیس ایڈیشن” کی کامیاب تکمیل

کینیڈا کی خلائی اور اختراعی معیشت میں برامپٹن کی قیادت نمایاں، نوجوان موجدوں کیلئےنئے دروازے کھل گئے

برامپٹن، اونٹاریو (نمائندہ خصوصی) برامپٹن شہر نے گزشتہ ہفتے اپنے دوسرے سالانہ “برام ہیکس 2025 اسپیس ایڈیشن” کی کامیاب تکمیل کا جشن منایا، جس کے ذریعے شہر نے کینیڈا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی خلائی اور اختراعی معیشت میں اپنی قیادت کو مزید مستحکم کر دیا۔

اس تین روزہ مقابلے میں کینیڈا بھر کی 35 سے زائد تعلیمی اداروں کے 700 سے زیادہ طلبہ و شرکاء نے حصہ لیا۔ ان سے کہا گیا کہ وہ خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال سے پائیدار ترقی، ماحولیاتی بہتری اور زمینی زندگی کے معیار کو بلند کرنے کیلئے ڈیٹا پر مبنی تخلیقی حل پیش کریں۔

“فاتح ٹیموں کا اعلان”
اتوار، 9 نومبر کو برامپٹن سٹی ہال میں فائنل راؤنڈ ہوا، جہاں منتخب پانچ ٹیموں نے اپنی تخلیقات کو ماہرینِ صنعت پر مشتمل جیوری کے سامنے پیش کیا۔ جیوری میں ماٹیلڈا خوشابا (کینیڈین سِس ایروسپیس کارپوریشن)، کائل بوائیکو (سی ای او، انسپائر ٹیک کینیڈا) اور مائیکل گراہم (سی ای او، نارتھ امریکن اسپیس انسٹیٹیوٹ) شامل تھے۔

تقریب میں ناسِی کے چیف مارکیٹنگ آفیسر محفوظ چوہدری نے مرکزی خطاب کیا اور نوجوانوں کو اپنے خیالات کو عملی شکل دینے کی ترغیب دی۔

“اعزازات درج ذیل ٹیموں کو ملے”
پہلا انعام: ٹیم JADE — “ہائمدال” (Heimdall)، ایک مصنوعی ذہانت سے چلنے والا سیٹلائٹ تشخیصی نظام جو ہارڈ ویئر خرابیوں کی پیشگوئی اور خلائی مشنز کی اعتباریت میں اضافہ کرتا ہے۔

دوسرا انعام: ٹیم Coolie — “ایسٹرواکیڈمی” (Astro-Academy)، ایک گیمیفائیڈ اے آئی تعلیمی پلیٹ فارم جو طلبہ کو خلائی سائنس سے جوڑنے کے لیے سیمولیشن پر مبنی تربیت فراہم کرتا ہے۔

تیسرا انعام: ٹیم SpaceEx — “ویلا” (Vela)، ایک خلائی ملبے کی نگرانی کا نظام جو سیٹلائٹ ڈیٹا اور پیشگوئی تجزیات کے ذریعے مدار کی سلامتی کو بہتر بناتا ہے۔

برام ہیکس 2025 کو HackWorks کے زیرِ انتظام برامپٹن اکنامک ڈیولپمنٹ آفس اور انویشن ڈسٹرکٹ نے منعقد کیا۔اس میں ایمیزون، گریٹر ٹورنٹو ایئرپورٹ اتھارٹی، کینن کینیڈا، پیزا ٹو گو اور ڈاؤن ٹاؤن برامپٹن BIA نے معاونت کی، جبکہ شیریڈن کالج، ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی، زیبرا روبوٹکس، یوتھ کلچر، میک اسٹف موو اور الگوما یونیورسٹی جیسے اداروں نے بطور پارٹنر شرکت کی۔

اس سال، Ibentos (بی ہائیو اسٹارٹ اپ) کے اشتراک سے ایک ڈیجیٹل طور پر انٹرایکٹو اے آئی پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا گیا، جس نے شرکاء کے درمیان ورچوئل نیٹ ورکنگ اور انگیجمنٹ کو نئی جہت دی۔

تین روزہ تقریب کا آغاز 6 نومبر کو کینن کینیڈا ہیڈکوارٹرز میں “اسپیس ڈے برامپٹن” سے ہواتھا۔

Moonshot3 ہائی اسکول طلبہ کے لیے راکٹ، روبوٹکس اور اسپیس ٹیکنالوجی میں عملی سیکھنے کا تجربہ۔ اونٹاریو اسپیس کلسٹر کا اجلاس، جس میں صوبائی، تعلیمی اور صنعتی اسٹیک ہولڈرز نے شمولیت کی۔ افتتاحی تقریب جس سے ڈاکٹر رابرٹ تھرسک (سابق کینیڈین خلا باز) اور راہول گوئل (سی ای او، نورڈ اسپیس) نے خطاب کیا۔

برامپٹن اب MDA اسپیس ہیڈکوارٹر اور اسپیس روبوٹکس سینٹر آف ایکسی لینس کا گھر ہے. وہی ادارہ جس نے کینیڈآرم جیسے تاریخی منصوبے بنائے۔ شہر میں شیریڈن سینٹر فار انٹیلیجنٹ روبوٹکس اور متعدد اسٹارٹ اپ نیٹ ورکس کی موجودگی نے برامپٹن کو کینیڈا کے مستقبل کے خلائی مرکز کے طور پر ابھارا ہے۔

پیٹرک براؤن، میئر برامپٹن کے مطابق”برامپٹن تیزی سے کینیڈا میں خلائی اختراعات اور جدید ٹیکنالوجی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ‘برام ہیکس’ کے ذریعے ہم اپنے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔”

گُرپرتاپ سنگھ تور، چیئرمین اکنامک ڈیولپمنٹ کاکہناتھا”ایسے ایونٹس نہ صرف طلبہ کی تخلیقی سوچ کو بڑھاتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری کو راغب کر کے شہر کو اختراع اور تعلیم کا مرکز بناتے ہیں۔”

روینا سانتوس، وائس چیئر اکنامک ڈیولپمنٹ نے بتایا”گزشتہ ہفتے کی تقریبات نے ظاہر کیا کہ حکومت، صنعت اور تعلیمی ادارے مل کر کس طرح مستقبل کے STEM لیڈرز تیار کر رہے ہیں۔ برامپٹن اب واقعی کینیڈا کے اسپیس سیکٹر کا نیا مرکز بن چکا ہے۔”

ٹیم JADE کے ارکان کا کہنا تھا”ہم نے ایک اے آئی پر مبنی سیٹلائٹ ریپئر سروس تیار کی جو مشنز میں خرابیوں کی پیشگوئی کر کے ان کی مرمت کے عمل کو خودکار بناتی ہے۔ برام ہیکس نے ہمیں سکھایا کہ خلائی اختراع زمین پر زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔”

برامپٹن شہر نے اس ایونٹ کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ نوجوانوں، ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کا امتزاج ہی جدید معیشت کی بنیاد ہے۔ماہرین کے مطابق برام ہیکس 2025 نے نہ صرف طلبہ کو عملی میدان میں لانے کا موقع دیا بلکہ برامپٹن کو کینیڈا کی “خلائی و اختراعی راجدھانی” بنانے کی سمت ایک بڑا قدم بڑھایا۔

اپنا تبصرہ لکھیں