شاعر نے کہا ”مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں“ اتنی تو سکت نہیں البتہ اپنے اس سکھ بھائی کی طرح دل چاہ رہا تھا، اس بھائی کی حیثیت تھی تو تین سوئمنگ پول بنا لئے اور تشریح فرمائی ایک گرم پانی، ایک ٹھنڈا پانی کا، دوست نے پوچھا ”یہ جو تیسرا خالی ہے یہ کیوں توبھائی نے جواب دیا“ کبھی نہانے کو دل نہیں بھی چاہتا“۔ سو صبح سے میرا بھی ایسا ہی حال تھا کہ آج لکھ کر کیا کرنا ہے کہ پہلے لکھ لکھ کر کیا کرلیا، ہر بار یہی سوچا کہ خود بھی اعتدال پر رہو اور اپنے سیاسی رہنماؤں سے گزارش کرتے رہو، شاید کبھی سن ہی لی جائے، لیکن یہاں تو شاید ریت میں پانی والا مسئلہ ہے کہ کسی پر کوئی اثر ہی نہیں کہ آسان کو بھی مشکل بنایا جا رہا ہے۔ یہی دیکھ لیں کہ محاذ آرائی میں شدت اسلام آباد پر بار بار چڑھائی، تشدد اور گولی کے الزام، جواب میں آئین و قانون کی خلاف ورزی کا الزام اور پھر یکایک مذاکرات کا آغاز، جب بیل منڈے تک آنے لگی تو مذاکرات سے انکار، آخر یہ کھیل کیا ہے، ہم جیسے لوگ اب خود کو بے وقوف سمجھنے لگ گئے ہیں کہ مسلسل مفاہمت، امن اور استحکام کی بات کرتے چلے آ رہے ہیں۔ تصور یہی ہے کہ ملک میں امن ہوگا، حالات بہتر ہوں گے تو ہم جیسے نچلے متوسط طبقے کے لوگ بھی کچھ سوچ سکیں گے، لیکن ایسا نہیں ہے، پانچ سے سات کروڑ کی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کتنی آسانی سے کہہ دیا۔ بانی نے مذاکرات ختم کرنے کو کہہ دیا ہے۔ تحریک انصاف کی کمیٹی اب چوتھے مرحلے کے لئے مذاکرات کے لئے نہیں جائے گی۔ دوسری طرف سے کہا جا رہا ہے کہ ایسا نہ کرو، آؤ اور اپنے تحریری مطالبات کا تحریری جواب لے لو اور پھر بات کرو کہ بات چیت ہی مسائل حل کرتی ہے لیکن دوسری طرف سے بیرسٹر گوہر خان کے بعد ایوب گوہر نے بھی کہہ دیا اور موواوور حضرت سنی اتحاد کونسل والے حامد رضا اور سیکرٹری اطلاعات وقاص شیخ نے مہر لگا دی ہے یوں یہ سب واقعی ”مذاق رات“ ثابت ہو گیا۔
اب مذاکرات کا تو یہ انجام کیا اس کے ساتھ ہی دونوں اطراف سے کہا گیا کہ نہ تو کہیں سے تسلی دلائی گئی اور نہ ہی بیک ڈور میں کچھ ہو رہا ہے۔ اب کس کو سچا کہا جائے۔ پنجابی والا محاورہ ”کِری ماں نوں ماسی آکھاں“ کی صورت پیدا ہو گئی ہے اور میرے جیسا بھی اب یہ سوچ رہا ہے کہ یونہی عمر گزار دی۔ صحافت کو روگ بنا لیا ورنہ ہم بھی دو تین دہائیاں پہلے بھرتی ہو گئے ہوتے تو آج چالیس، پچاس لاکھ ماہانہ کے پیکیج والے ہوتے اور صیاد بھی ہم سے خوش رہتے، لیکن ہمارے ذہن میں تو تحریک پاکستان کا تاثر اور آزادی صحافت بھرا ہوا ہے، بدقسمتی سے دونوں تصور ٹوٹ گئے اور بھرم بھی جاتا رہا ہے بہرحال ایک عرض مودبانہ طور پر خود سے پوری برادری، سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں سے کرنا ہے کہ احساس زیاں کرو، اسے نہ جانے دو کہ ملک کی قسمت اب آپ حضرات کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا کے بڑے سود خور اب آپ کو اس لئے بھی زندہ رکھنے پر مجبور ہیں کہ وہ بھی سود خور حضرات و افراد کی طرح اپنا قرض برقرار رکھ کر سود وصول کرتے رہنا چاہتے ہیں اور آپ سب جان بوجھ کر بھولے بنے ہوئے ہیں کہ آپ میں سے کسی کو کوئی خوف نہیں اکثر ملک سے فرار ہو سکتے اور باقی کمپرومائنز کر سکتے ہیں کہ ہماری ملکی تاریخ بھی یہی ہے کہ جب قیام پاکستان یقینی ہو گیا تو یونینسٹ جاگیردار آکر قابض ہو گئے اور ابھی تک جان ہی نہیں چھوڑ رہے کہ ان کی باقیات موجود ہیں۔
جلے دل کے ساتھ آج یہ بھی کہہ دوں کہ سیاسی قائدین خواہ ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہے ایک ہی وقت میں دہرا تہرا کردار ادا کررہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا رونا روتے ہیں اور پھر اسی کی حمایت کے لئے مرے جاتے ہیں، جب تک مفاد ہو عظیم تر ہیں، اگر تکلیف ہو تو پھر وہ غداروں جیسے القابات سے بھی یاد کرتے اور میرجعفر،میر صادق قرار دیتے ہیں اور ذرا ٹہنی جھکتی محسوس ہو تو پھر سے درکے چکر شروع کر دیتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ اگر آپ سب کا یقین یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے جو نہیں ہونا چاہیے تو پھر آپ سب کو آپس میں درست جمہوری طرز عمل اختیار کرکے ان کے ساتھ بھی ”میثاق جمہوریت“ کرنا ہوگا تاکہ سب اپنے اپنے دائرہ کار میں رہیں، ایسا نہیں ہوگا تو پھر یہی کچھ ہوتا رہے گا کہ آپ سب اسی در کی طرف جاتے اور آسرا لیتے رہیں گے۔سب کہتے ہیں ہر ایک کو اپنے اپنے آئینی دائرہ میں رہنا ہوگا لیکن جب بھی آپ کسی کو موقع ملتا ہے آپ اسی آئین سے کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔
اب ذرا غور فرمائیں،امریکہ میں معمول کے مطابق انتخابات ہوئے۔ صدر ٹرمپ جیت گئے اور انہوں نے اپنی ترجیحات پر عمل بھی شروع کر دیا تاحال ان کی نظر پاکستان کی طرف نہیں۔ ادھر تو ان کے مختلف اداروں کے لوگ دیکھ رہے ہیں، لیکن ہلچل ہم پاکستانیوں میں ہے۔ تحریک انصاف والوں نے سرتوڑ کوشش کرکے ابتداء پاکستان سے کرانے کی بھرپور کوشش کی لیکن صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی پالیسی تاحال اس حوالے سے ظاہر نہیں ہوئی اور یہاں فتح و شکست کی بات ہو رہی ہے برسراقتدار طبقے کی تو سمجھ آتی ہے اور وہ فکر مند ہے، اسے ہونا بھی چاہیے کہ اس وقت وہ صاحب اقتدار ہیں اور ملک کی ذمہ داری بھی ان پر ہے اسی لئے تو ہمارے “Two In One)وفاقی وزیر داخلہ واشنگٹن میں سفیر محترم کے ساتھ سخت قسم کی لابنگ میں مصروف ہیں، حالانکہ یہ کام ہمارے نائب وزیراعظم کا تھا، چلو محسن نقوی کررہے ہیں تو کوئی فکر نہیں کہ ایک صفحہ کی بات ہے۔ یہ اچھا ہوا ہے کہ ان کو بھیج دیا گیا۔ ضرورت ہے کہ تعلقات خراب نہ ہوں، بہتری کی طرف جائیں۔اللہ سے بہتری کی امید رکھنا چاہیے اور خود اپنی پالیسی کو بہتر انداز سے چلانا چاہیے، اللہ خیر کرے گا، اس کے باوجود اتحاد ہی ضرورت ہے۔اتفاق میں بہرحال برکت ہوتی ہے۔

