برطانیہ میں 3ایرانی گرفتارتہران میں‌ برطانوی ناظم الامور طلب

تہران(نامہ نگار)برطانیہ میں تین ایرانی شہریوں پر جاسوسی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد ایران اور برطانیہ کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی حکام نے 3 مئی 2025 کو لندن میں مقیم تین ایرانی شہریوں39سالہ مصطفیٰ سپاہوند ،44سالہ فرہاد جوادی منیش، اور55سالہ شاپور قالهالی خانی نوری کو گرفتار کیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اگست 2024 سے فروری 2025 کے درمیان ایران کی انٹیلی جنس سروس کی مدد کیلئےسرگرمیاں انجام دیں. جن میں لندن میں قائم فارسی زبان کے میڈیا ادارے “ایران انٹرنیشنل” کے صحافیوں کی نگرانی اور ان کے خلاف تشدد کی منصوبہ بندی شامل ہے ۔

ان گرفتاریوں کے بعد، ایران نے تہران میں برطانوی ناظم الامور کو طلب کیا اور ان گرفتاریوں کو “غیر قانونی” اور “سیاسی محرکات پر مبنی” قرار دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا کہ برطانیہ نے ایرانی سفارت خانے کو بروقت اطلاع نہیں دی اور قونصلر رسائی سے انکار کیا، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔

برطانوی وزارت خارجہ نے ایرانی سفیر سید علی موسوی کو طلب کیا اور واضح کیا کہ قومی سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے اور ایران کو اپنے اقدامات کا جوابدہ ہونا چاہیے ۔

یہ سفارتی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں ایران کی مبینہ ریاستی حمایت یافتہ سرگرمیوں پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ برطانوی حکومت ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر غور کر رہی ہے ۔

یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر جب ایران پر الزام ہے کہ وہ برطانیہ میں صحافیوں اور دیگر افراد کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں