برطانیہ میں برفباری اور شدید سردی، سفری نظام متاثر ہونے کا خدشہ، وارننگ جاری

لندن( بی بی سی، رائٹرز، ڈان نیوز)برطانیہ بھر میں برفباری اور شدید سردی کے باعث سفری نظام میں خلل پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے پیشِ نظر محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں کے لیے موسمی وارننگز جاری کر دی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، برطانیہ کے متعدد علاقوں میں برفباری اور نقطہ انجماد سے نیچے درجہ حرارت کے حوالے سے یلو ویدر وارننگز نافذ ہیں، جبکہ شمالی اسکاٹ لینڈ کیلئے ایمبر سنو وارننگ جمعہ دوپہر سے مؤثر ہو گئی ہے۔

سرد موسم کا یہ سلسلہ جنوب مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں انگلینڈ اور ویلز کے کئی علاقوں میں برفباری متوقع ہے۔ لندن، گریٹر مانچسٹر اور کارڈف پر مشتمل علاقوں میں جمعہ کی صبح سے دوپہر تک برف اور جماؤ کیلئےیلو وارننگ جاری کی گئی ہے، جبکہ جنوب مغربی انگلینڈ میں جماؤ کے حوالے سے علیحدہ یلو وارننگ صبح 10 بجے تک نافذ رہے گی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بعض علاقوں میں تقریباً 2 سینٹی میٹر برف پڑ سکتی ہے، جبکہ بلند علاقوں میں برف کی موٹائی 5 سینٹی میٹر تک پہنچنے کا امکان ہے۔نئے سال کے دن شدید برفباری کے باعث اسکاٹ لینڈ کے ہائی لینڈز اور شمال مشرقی علاقوں میں گاڑی چلانے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور جمعہ و ہفتے کے اختتام تک برفانی طوفان جیسی صورتحال کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

شمالی اسکاٹ لینڈ میں جاری ایمبر سنو وارننگ ہفتے کی دوپہر تک نافذ رہے گی اور یہ ایک وسیع تر یلو وارننگ کے دائرہ کار میں شامل ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ ایمبر وارننگ والے علاقوں میں شدید موسمی حالات کے باعث بجلی کی بندش اور گاڑیوں کے پھنسنے جیسے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔

جمعہ کے روز بعض علاقوں میں نشیبی زمین پر برف کی سطح 20 سینٹی میٹر جبکہ بلند مقامات پر 40 سینٹی میٹر تک پہنچنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شدید برفباری کے جھکڑ زیادہ تواتر سے چلیں گے اور بعض اوقات مسلسل برفباری کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ تیز ہوائیں برف کے ڈھیر (Snowdrift) اور عارضی برفانی طوفانی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں، جس سے سفری نظام متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔