برطانیہ میں رہنے والےغریب ترین” پیر “حضرات

لندن(کنزاعمران سے)ویسے تو” پیر “دنیا کے ہرکونے میں پائے جاتے ہیں اور اپنی چکنی چوپڑی باتوں سے سادہ لوح لوگوں کوبیوقوف بنانے اور ان کی جمع پونجی نکلوانے کے ماہرہوتے ہیں.ان پیروں کے مرید اپنے پیر کے کہنے پر کسی حدتک جانے کوتیار ہوجاتے ہیں حتی کہ کسی کونقصان پہنچانے میں‌بھی پیچھے نہیں‌رہتے.

یہ پیر ان کو دھن دولت سے بھی محروم کرتے ہیں‌اور ان کی عزتوں سے بھی کھیلتے ہیں‌.برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں کے علاوہ ایشیاسے تعلق رکھنے والے اکثر افراد اپنے منتیں مرادیں حاصل کرنے کیلے “پیروں” کے چکر میں رہتے ہیں.ایسے لوگ آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کوتیارہوتے ہیں صرف اپنے پیروں کے کہنے پر.

انگلینڈ میں مقیم کچھ پاکستانی پیر صاحبان کی معلوم دولت کا تخمینہ ( آف شور دولت اور ٹرسٹ اس میں شامل نہیں )

نمبر 1۔ صوفی جنید نقشبندی Grandson صوفی عبداللہ نقشبندی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ گھمکول شریف ، برمنگھم 132 ملین پاؤنڈ۔ پاکستانی 290 ارب تقریباً

نمبر 2۔ پیر سلطان نیاز الحسن باہو ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ سلطان باہو ، برمنگھم۔ 80 ملین پاؤنڈ ، 176 ارب روپے تقریباً

نمبر 3۔ پیر سلطان فیاض الحسن باہو ، اسسٹنٹ سجادہ نشین آستانۂ عالیہ سلطان باہو ، برمنگھم 83 ملین پاؤنڈ ، 183 ارب روپے تقریباً

نمبر 4۔ پیر نورالعارفین صدیقی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ نیریاں شریف ، برمنگھم ، 77 ملین پاؤنڈ ، 170 ارب روپے تقریباً

نمبر 5۔ پیرزادہ امداد حسین ، مہتمم جامعہ الکرم نوٹنگھم ، 76 ملین پاؤنڈ ، 168 ارب روپے تقریباً

نمبر 6۔ پیر معروف حسین شاہ نوشاہی ، آستانۂ عالیہ نوشاہیہ بریڈفورڈ ، 68 ملین پاؤنڈ ، 150 ارب روپے تقریباً

( پیر معروف حسین صاحب برطانیہ میں وارد ہونے والے سب سے پہلے پیر ہیں ، موصوف اپریل 1961 میں برطانیہ تشریف لائے ، اور اون کی مل میں مزدوری شروع کی ، چند ماہ بعد بریڈ فورڈ میں تبلیغ الاسلام کے نام سے ایک مکان میں مسجد بنائی ، لیکن مریدین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے اگلے 18 سال ملوں میں مزدوری ہی کرتے رہے ، اس وقت بریڈفورڈ و گرد و نواح میں تیس سے زائد مکانات میں تبلیغ الاسلام کے نام سے مساجد بنا چکے ہیں ، اور ان تمام پراپرٹیز کے بلاشرکتِ غیرے مالک بھی ہیں ، لیکن ان مکانات کی مالیت 68 ملین پاؤنڈ میں شامل نہیں ، پیر صاحب اس لحاظ سے بھی بدقسمت ہیں کہ پاکستان میں کسی بڑی گدی کے سجادہ نشین نہ ہونے کی وجہ سے برطانیہ میں ان کے مریدین کی تعداد ابھی تک بیس ہزار سے کم ہے )

نمبر 7۔ پیر سید عبدالقادر جیلانی سابق خطیب ٹنچ بھاٹہ راولپنڈی ، مہتمم دارالعلوم قادریہ جیلانیہ لندن ، 62 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 139 ارب روپے تقریباً

نمبر 8۔ پیر منور حسین جماعتی سجادہ نشین آستانۂ علیہ امیرِ ملت پیر جماعت علی شاہ برمنگھم ، 60 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 134 ارب روپے تقریباً

نمبر 9۔ پیر حبیب الرحمن محبوب ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ ڈھانگری شریف ، بریڈفورڈ ، 32 ملین پاؤنڈ ، پاکستانی 71 ارب روپے تقریباً

نمبر 10۔ پیرعرفان مشہدی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ بکھی شریف بریڈفورڈ ، پیر عرفان شاہ صاحب ان پیروں میں سب سے غریب ترین پیر ہیں کیونکہ ان کی دولت 2 ملین پاؤنڈ یعنی پاکستانی صرف 44 کروڑ روپے ہے۔

“تلک عشرة کاملة”
مندرجہ بالا تمام دس پیر صاحبان کا تعلق پاکستان و آزاد کشمیر سے ہے۔ جو برٹش نیشنیلٹی ہولڈر اور برطانیہ میں مقیم ہیں .

اس کے علاوہ وہ تمام پیر صاحبان جنہوں نے اپنی دولت ٹرسٹ ( این جی اوز ) کے پردے میں چھپائی ہوئی ہے۔ وہ اس لسٹ میں شامل نہیں۔

نیز پاکستان میں مقیم جو پیر صاحبان سالانہ یہاں سے اربوں روپے کے نذرانے بٹورنے کیلئے تشریف لاتے ہیں وہ بھی اس لسٹ میں شامل نہیں۔

مندرجہ بالا دس پیر صاحبان کی اجتماعی دولت سے کئی گنا زیادہ دولت کے مالک “ پیر ہاشم الگیلانی البغدادی “ ہیں ، جو آستانۂ عالیہ شیخ عبدالقادر جیلانی رح بغداد کے گدی نشین ہیں ، یہ پیر صاحب بھی برٹش نیشنلیٹی ہولڈر اور مقیمِ برطانیہ ہیں۔ جیسے پاکستانی نژاد برطانوی پیر کبھی کبھی پاکستان دورہ پہ تشریف لے جاتے ہیں ، اسی طرح یہ بھی کبھی کبھی بغداد کے دورہ پہ تشریف لے جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں