برطانیہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے پر ایئربیس سے چار افراد گرفتار

انسداد دہشت گردی پولیس کا کریک ڈاؤن، فلسطین ایکشن گروپ کیخلاف کارروائی، یوویٹ کوپر کا سخت مؤقف

لندن (رائٹرز/نمائندہ خصوصی)برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس نے فلسطین کے حق میں ایک احتجاج کے سلسلے میں آکسفورڈشائر کی ایئربیس پر کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شدگان میں دو مرد، دو خواتین شامل ہیں جن پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی، تیاری یا معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک 29 سالہ خاتون اور دو مرد جن کی عمریں 36 اور 24 برس ہیں، کو دہشت گردی کے عمل کی منصوبہ بندی یا اکسانے کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ ایک 41 سالہ خاتون کو جرم میں مدد فراہم کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

فلسطین ایکشن کا مظاہرہ اور ایئربیس پر حملہ
یاد رہے کہ 20 جون کو ’فلسطین ایکشن‘ گروپ کے دو کارکنان نے وسطی انگلینڈ کے آکسفورڈشائر میں واقع ایک ایئربیس میں داخل ہو کر دو فوجی طیاروں پر سرخ رنگ چھڑک دیا تھا۔ یہ طیارے ایندھن اور اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ مظاہرین نے طیاروں کو کھرپیوں کے ذریعے نقصان بھی پہنچایا۔

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس کارروائی کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں قانون شکنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، خواہ وہ کسی بھی سیاسی مؤقف کے تحت کی گئی ہو۔

’فلسطین ایکشن‘ پر پابندی کی تیاری
واقعے کے بعد وزیر داخلہ یوویٹ کوپر نے اعلان کیا تھا کہ حکومت ’فلسطین ایکشن‘ پر پابندی عائد کرنے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت اقدامات کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس گروپ کی سرگرمیاں اب انتہائی جارحانہ نوعیت اختیار کر چکی ہیں، جن کے باعث برطانوی املاک کو لاکھوں پاؤنڈز کا نقصان پہنچا ہے۔

تنظیم کا ردعمل
دوسری جانب ’فلسطین ایکشن‘ گروپ نے گرفتاریوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کو دبانا چاہتی ہے۔ گروپ کا مؤقف ہے کہ ان کے مظاہرے پرامن ہوتے ہیں اور ان کا مقصد اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں کی جانے والی نسل کشی کے دوران اسلحے کی ترسیل کو روکنا ہے۔

پس منظر
’فلسطین ایکشن‘ گروپ نے غزہ میں جاری جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک برطانیہ میں اسرائیلی دفاعی کمپنی ’ایلبٹ سسٹمز‘ اور اس سے منسلک برطانوی اداروں کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب برطانیہ سمیت یورپ بھر میں فلسطینی حقوق کے حق میں مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے، جبکہ حکومتیں داخلی سلامتی کے نام پر پابندیاں اور گرفتاریوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں