برطانیہ میں مستقل رہائش کیلئے 20 سال کا انتظار لازم قرار

نئی پالیسی میں پناہ گزینوں کا درجہ عارضی، ہر ڈھائی سال بعد ازسرنو جائزہ، انسانی حقوق گروپس کا شدید ردعمل

لندن( رائٹرز )برطانوی حکومت نے پناہ گزینوں کے لیے امیگریشن پالیسی میں تاریخی اور سخت ترین تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جن کے تحت مستقل رہائش (Indefinite Leave to Remain) کے حصول کے لیے انتظار کی مدت کو چار سال سے بڑھا کر 20 سال کر دیا گیا ہے۔ پالیسی کے تحت پناہ کا درجہ اب عارضی ہوگا اور ہر ڈھائی سال بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کسی پناہ گزین کے آبائی ملک کو محفوظ قرار دے دیا گیا تو اس کا درجہ منسوخ بھی کیا جا سکے گا۔

برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ اصلاحات خاص طور پر اُن افراد کو متاثر کریں گی جو کام کی صلاحیت رکھنے کے باوجود سرکاری مدد پر انحصار کرتے ہیں، یا جنہوں نے قانون شکنی کی ہو۔ وزارت نے واضح کیا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے دی جانے والی معاونت صرف اُن افراد تک محدود کی جائے گی جو ملک کی معیشت اور مقامی کمیونیٹیز میں حصہ ڈالیں گے۔

وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ “ہمارا نظام دیگر یورپی ممالک کے مقابلے میں بہت فراخدل رہا ہے، مگر اب یہ سہولت اس انداز میں استعمال ہو رہی ہے کہ قانون کے مطابق ملک بدری کے مستحق افراد یہاں رہ رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ نئے نظام میں مستقل رہائش کا راستہ “20 سال کا ایک طویل مرحلہ” ہوگا۔

“عارضی تحفظ، معاونت میں سخت شرائط”
وزارتِ داخلہ کے مطابق کچھ پناہ گزینوں سے رہائش اور ہفتہ وار الاؤنس کی صورت میں دی جانے والی سرکاری مدد بھی ختم کی جا رہی ہے۔حکومت نے خبردار کیا کہ آئندہ پناہ گزینوں کو قانون شکنی، بے عملی یا معاشرے میں عدم شمولیت کی صورت میں معاونت نہیں ملے گی۔

“انسانی حقوق تنظیموں کی تنقید”
100 سے زائد برطانوی فلاحی تنظیموں نے شبانہ محمود کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ وہ “مہاجرین کو موردِ الزام ٹھہرانے اور نمائشی پالیسیوں” کو ختم کریں، جن کی وجہ سے نفرت اور سماجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ریفیوجی کونسل نے کہا کہ “پناہ گزین خطرے سے بھاگتے وقت ممالک کے امیگریشن قوانین کا موازنہ نہیں کرتے، وہ وہاں جاتے ہیں جہاں انہیں زبان، رشتے دار یا سماجی روابط کی وجہ سے نئی زندگی شروع کرنے میں آسانی ہو۔”

“پس منظر: سیاست، عوامی دباؤ اور تارکین وطن مخالف جذبات”
حکومت نے یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے ہیں جب رائے عامہ کے مطابق امیگریشن برطانوی ووٹرز کا “معاشی مسائل سے بھی بڑا مسئلہ” بن چکا ہے۔گزشتہ برس 109,343 افراد نے پناہ کیلئےدرخواست دی، جو 17 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد ریفارم یوکے جیسی جماعتوں کی بڑھتی ہوئی حمایت کا توڑ اور عوامی دباؤ کا جواب ہے، جہاں غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے پر سخت بیانیہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔

“ڈنمارک سے متاثر سخت ماڈل”
برطانیہ کا نیا نظام کئی پہلوؤں میں ڈنمارک جیسا ہے، جہاں پناہ کا درجہ مکمل طور پر عارضی اور باقاعدہ جائزے سے مشروط ہوتا ہے۔ ڈنمارک میں پالیسی سخت ہونے کے بعد پناہ کی درخواستیں 40 سال کی کم ترین سطح تک آ گئی ہیں اور مسترد شدہ درخواست گزاروں کی 95 فیصد ملک بدری ہو چکی ہے۔تاہم حقوقِ انسانی گروپس کا کہنا ہے کہ اس ماڈل نے مہاجرین کے لیے ماحول انتہائی غیر یقینی بنا دیا ہے۔

برطانوی حکومت کی یہ اصلاحات یورپ میں امیگریشن پالیسیوں کی سخت ترین لہر کا حصہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق 20 سال کا عرصہ پناہ گزینوں کو طویل غیر یقینی صورتحال میں رکھے گا، جبکہ باقاعدہ جائزے کے نظام سے ہزاروں افراد کی حیثیت مستقل طور پر خطرے میں رہے گی۔دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی سے صرف وہ افراد فائدہ حاصل کر پائیں گے جو معاشرے اور معیشت میں فعال کردار ادا کریں گے مگر اس بحث کا مستقبل سیاسی حالات اور انسانی حقوق کے عالمی دباؤ سے جڑا رہے گا۔