لندن (نمائندہ خصوصی) برطانوی حکومت نے غزہ میں جاری وحشیانہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ نئے آزادانہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کو معطل کر دیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کی موجودہ حکومت سے تجارتی معاہدے پر بات چیت ممکن نہیں رہی۔
برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر نے کہا ہے”غزہ میں بچوں کی تکالیف ناقابل برداشت ہیں۔ ہم فوری جنگ بندی کا مطالبہ دہراتے ہیں۔”اس بیان کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ حکومت پر اندرونِ ملک شدید دباؤ ہے کہ وہ غزہ میں بھوک اور مسلسل بمباری کا سامنا کرنے والے فلسطینیوں کی کھل کر حمایت کرے۔
برطانوی حکومت نے منگل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا”ہم غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی انتہائی جارحانہ پالیسیوں کی روشنی میں اس کے ساتھ کوئی نئی تجارتی بات چیت نہیں کر سکتے۔”
اسرائیلی کاتمام صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے برطانوی اقدام کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیا ہے.اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ان اقدامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا”یہ فیصلہ غیر منصفانہ اور قابل افسوس ہے۔ موجودہ برطانوی حکومت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر ویسے بھی کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی تھی۔”
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب فرانس اور کینیڈا بھی اسرائیل کے طرز عمل پر شدید تنقید کر چکے ہیں۔ عالمی سطح پر اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف مخالفت بڑھ رہی ہے، اور برطانیہ کی اس کارروائی کو ایک اہم سفارتی موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔

