وینکوور ( نمائندہ خصوصی/رائٹرز/سی بی سی) برٹش کولمبیا کی عوامی لائبریریاں شدید فنڈنگ بحران سے دوچار ہیں اور اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ ادارے اپنی کمیونٹی خدمات کو جاری رکھنے کے قابل نہیں رہیں گی۔
برٹش کولمبیا پبلک لائبریریز ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن (ABCPLD) کے مطابق صوبے بھر کی لائبریریاں صرف کتابیں فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ نوواردوں، بچوں اور کمیونٹی کے دیگر طبقات کے لیے سماجی اور ثقافتی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ تاہم، 16 برسوں سے صوبائی فنڈنگ 14 ملین ڈالر پر جمی ہوئی ہے، جس کے باعث صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔
ایسوسی ایشن کی چیئر، کاری لن گوولٹز (Cari Lynn Gawletz) نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پبلک لائبریریاں وہ افسانوی ’تیسری جگہ‘ ہیں جہاں لوگ گھر اور کام کے علاوہ ایک محفوظ ماحول میں بلا معاوضہ وقت گزار سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ادارے کمیونٹی اور سماجی خدمات کی خلا کو پر کر رہے ہیں، نووارد افراد اور بچوں کے لیے مفت پروگرامز چلا رہے ہیں اور غیر رسمی طور پر موسم کی شدت کے دوران پناہ گاہ کے طور پر بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
گوولٹز نے کہا: “کمیونٹیز میں ہم بہت کم بجٹ کے ساتھ بھی بڑا اثر ڈال رہے ہیں، لیکن اب ہم ایسے موڑ پر پہنچ گئے ہیں جہاں محض دروازے کھلے رکھنے اور بجلی کے بل ادا کرنے کیلئے بھی فنڈز ختم ہو رہے ہیں۔”
ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ اگر فوری طور پر فنڈنگ میں اضافہ نہ کیا گیا تو لائبریریاں اپنی کامیابی کی ہی شکار بن جائیں گی، کیونکہ اب تو ان کا بنیادی مقصد یعنی کتابوں کی فراہمی بھی خطرے میں ہے۔

