بسنت: 2 پیس کا پنا 60 ہزار میں فروخت، کیمیکل اورموٹی ڈور کا کھلا استعمال

حکومتِ پنجاب کی جانب سے 6، 7 اور 8 فروری کو ایس او پیز کے تحت بسنت منانے کے اعلان کے بعد لاہور میں جشنِ بسنت کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہو گئی تھیں لیکن شہریوں نے اس موقع پر کئی مسائل اور مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔ موچی گیٹ‌ مارکیٹ میں ڈوراور پتنگوں کی قیمتیں آسمان کوچھوتی رہیں.2پیس ڈورکاپنا60ہزارمیں فروخت ہواجوایک ریکارڈہے.

شہریوں نے شکایت کی کہ ڈور اور گڈی دستیاب نہیں ہو رہی ہیں، جبکہ حکومتی کنٹرول کے فقدان کی وجہ سے قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یکم فروری کوفروخت شروع ہونے کے پہلے دن موچی گیٹ کی مارکیٹ میں 2 پیس کا پنا 6 ہزار روپے سے شروع ہو کر7فروری کو 60 ہزار روپے تک فروخت ہوا. تاوا گڈا 500 سے800 اور ڈیڑھ تاوا گڈا 1000 سے2000 تک میں فروخت ہوتارہا۔

ڈورگڈی کی قیمتوں میں‌ریکارڈاضافہ سے متوسط طبقہ بسنت کیلئے گڈی ڈورسے محروم رہااس کے علاوہ 2دن ہوانہ چلنے کے باعث بھی وہ لوگ بھی پریشان نظرآئےجنہوں نے مہنگی ڈوراورگڈی خریدی تھی.ڈوراورگڈے پتنگوں کی خرید و فروخت کی اجازت کے بعد دکان داروں نے من مانی قیمتیں وصول کرنا شروع کر دی، جس سے شہریوں کو خاصی مشکلات کا سامنا رہا۔ ناجائز فروخت کنندگان نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور کیمیکل ڈور 3 ہزار سے 6 ہزار روپے تک با آسانی دستیاب رہی۔

باوثوق ذرائع کے مطابق لاہور میں اڑنے والی پتنگوں میں تقریباً 70 فیصد کیمیکل ڈور استعمال کی گئی یاموٹی ڈورکابے تحاشااستعمال کیاگیا. جو حکومت کی جانب سے بسنت منانے کی اجازت کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ گڈی اور ڈور کی قیمتوں پر کنٹرول رکھتی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیتی تاکہ عوام محفوظ اور پرامن جشن منا سکیں۔

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ایس او پیز اور بسنت کے انتظامات میں شفافیت نہ ہونے کے باعث غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ ملا اور بازار میں قیمتوں میں اچانک اضافہ شہریوں کیلئے تشویش کا باعث بنا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت جیسے عوامی تہوار کے دوران حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نہ صرف عوامی تحفظ کو یقینی بنائے بلکہ بازار میں مصنوعی قلت یا ناجائز منافع خوری کی روک تھام کرے۔ کیمیکل اورموٹی ڈور کا غیر قانونی استعمال نہ صرف شہریوں کی زندگیوں کیلئے بےحدخطرناک ہے۔

لاہور میں بسنت کے دوران یہ صورتحال اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ حکومت کو آئندہ برسوں میں بہتر انتظامات اور موثر نگرانی کے ذریعے عوامی فلاح اور روایتی تہواروں کی حفاظت کے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ شہری بغیر کسی خوف یا مشکلات کے اس تہوار کا لطف اٹھا سکیں۔