بلوچستان میں حالیہ دہشت گردواقعات کو ہفتہ ہونے کو ہے، مگر مجال ہے کہ یہ 12مقامات پر منظم حملے ذہن سے نکل رہے ہوں،،، بلکہ وہاں پر ہر نیا واقعہ ایک پرانے سوال کو تازہ کر دیتا ہے کہ آخر بلوچستان میں امن مستقل کیوں نہیں ہو پا رہا؟یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے کا نہیں بلکہ ایک سیاسی، معاشی اور سماجی بحران ہے۔ جو دہائیوں سے جاری محرومیوں، بداعتمادی اور ریاست و عوام کے درمیان فاصلے نے اس خطے کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ایک چنگاری پورے ماحول کو جلا دیتی ہے۔حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں جو بات سب سے زیادہ تشویشناک ہے وہ یہ ہے کہ حملوں کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔ اب صرف سرکاری تنصیبات یا فورسز ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ دہشت گرد عناصر کا مقصد محض طاقت کا اظہار نہیں بلکہ خوف، عدم استحکام اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنا ہے۔
جبکہ بدلے میں ریاست کو اگر دیکھیں تو اس وقت سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے، کسی کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کرنا ہے،،، اگر ہم اس حوالے سے بھی سوچیں کہ کوئٹہ پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کہیں باہر سے نہیں بلکہ کوئٹہ کے اندر سے ہی آئے تھے،،،تو میرے خیال میں اس سے زیادہ تشویشناک بات ہو ہی نہیں سکتی،،، اور پھر وہ اعلانیہ آتے ہیں،،، یعنی جیسے ہمارے ایک آفیسر کی پریس کانفرنس جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ ہمت ہے تو سامنے آﺅ،،، کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ہم آرہے ہیں،،، اور وہ پھر آئے،،، اور حملے کیے،،، لیکن موصوف کہیں نظر نہیں آئے،،، اور پھر موسٹ آف دی ٹائم بی ایل اے سوشل میڈیا پر بتا کر حملے کرتی ہے،، ، لیکن ہم پھر کہیں کہیں اُنہیں Spaceدے دیتے ہیں،،، اس لیے پھرذہن میں یہ سوال ضرور آتا ہے کہ اگر آپ کا صوبائی دارالحکومت محفوظ نہیں ہے تو پھر باقی شہروں کی صورتحال کیا ہوگی؟ حالانکہ کوئٹہ شہر کی آبادی محض 16لاکھ سے زائد نہیں ہے،،، اور اتنے لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا، یا اُن پر نظر رکھنا ، یا اُن کی حرکات و سکنات کو مانیٹر کرنا میرے خیال میں کسی ریاست کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے،،، اور ریاست بھی وہ جس کی آبادی 25کروڑ سے زائد ہے،،، اور پھر پہلی دفعہ نوجوان لڑکیاں بھی خودکش حملہ آوروں میں شامل تھیں،،، جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے،، اس حوالے سے کیا ہمیں نہیں سوچنا چاہیے ،،، کہ آخر ہم سے کہاں بھول ہوئی ہے؟
اور پھر مجھے کوئی یہ نہ بتائے کہ ہم سے کہیں بھول نہیں ہوئی،،، ہم سے بہت سی خطائیں ہوئی ہیں،،، تبھی آج ہماری حالت یہ ہے کہ وہاں موجود ایک ذرائع سے معلوم ہوا ہے اور بعض رپورٹس بھی آرہی ہیں کہ اس وقت کوئی کمشنر، کوئی ڈپٹی کمشنر یا اس سے متعلقہ اعلیٰ عہدیداران اپنے آفس میں نہیں بیٹھ رہا، اور جو کوئی بیٹھ رہا ہے اُس کی پبلک تک رسائی ہی ممکن نہیں ہے، حتیٰ کہ بلوچستان اسمبلی کا کوئی بھی رکن آپ کو اپنے حلقے میں نہیں ملے گا،،، بلکہ کئی ایک تو سرکاری دوروں پر بیرون ملک پائے جاتے ہیں،،، اور کچھ اسلام آباد میں موجود ہیں اور جو اکا دکا وہاں مو جود ہیں وہ عوام میں آنے کو تیار ہی نہیں ہے،،،ایسی صورتحال میں مجھے بتائیں کہ کیسے حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں؟ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یہ سب کیا دھرا فارم 47پر جیتنے والوں کا ہے، جن کی عوام میں کوئی اہمیت ہی نہیں ہے،،، وہ محض کٹھ پتلیاں ہیں، اس کے سوا کچھ نہیں ہیں،،،اس لیے وہ بھی عوام میں جانے سے ڈرتے ہیں،،، حالانکہ اداروں کو چاہیے تھا کہ چند ایک ایسے بندے بھی لے آتے جو فارم 45سے جیتتے، جو عوام کے حقیقی نمائندے ہوتے،،، جو عوام کے ووٹ سے آئے ہوتے،،، جو معاملات کو سلجھانے میں مہارت رکھتے،،، جس کی باتیں ”باغی“ بھی سنتے اور ریاست بھی اُنہیں تسلیم کرتی۔ لیکن افسوس از حد افسوس ایسا نہیں کیا گیا۔
بہرحال بلوچستان میں اس وقت بہت سے مسائل ہیں،،، جنہیں توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے،،، انہی مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں دو قسم کے قوم پرست موجود ہیں، ایک ڈاکٹر عبدالمالک جیسے لوگ، جو بلوچستان پر اپنا حق سمجھتے تھے، اُس کی منرلز کو اپنا سمجھتے تھے،،، اور ساتھ آئین پاکستان کی پاسداری بھی کرنے والے لوگ تھے،،، جبکہ دوسری قسم کے لوگ یا جماعتیں باغی رہنماﺅں پر مشتمل ہے، جس کی مثال بی ایل اے وغیرہ سے لی جا سکتی ہے، یعنی یہ لوگ ”آزاد بلوچستان“ کا نعرہ لگاتے ہیں،،، اور یہ آئین پاکستان کو بھی نہیں مانتے،،، ہمیں کچھ زیادہ نہیں تو کم از کم ڈاکٹر عبدالمالک جیسے لوگوں کو پروموٹ کرنا چاہیے تھا،،، لیکن ہم نے وہ بھی نہ کیا،،، اور اُنہیں ضائع کر دیا،،، حالانکہ ان جیسے لوگوں کا قصور یہ تھا کہ یہ لوگ لاپتہ افراد پر بات کرتے تھے،،، ریاست اور عوام کے درمیان پل بننے کی کوشش کرتے تھے،،، طاقت کی زبان کے بجائے دلیل کی زبان بولتے تھے اور یہی سب سے بڑا جرم بن گیا۔
اور پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بین الصوبائی نفرتیں پھیلائی جا رہی ہیں،،، آپ بلوچستان کا سفر نہیں کر سکتے،،، اگر آپ میں ہمت ہے تو وہاں بغیر پولیس یا ایف سی کے سفر کرکے دکھائیں،،، ان فورسز کے ساتھ بھی اگر آپ بچ جائیں تو غنیمت ہوگی،،، اس لیے میرے خیال میں تمام ناراض رہنماﺅں کو بلائیں، اُن کے لیے عام معافی کا اعلان کریں، ایگو کو ایک طرف رکھ کر بات کریں،،، کیوں کہ انا جب بیچ میں آئے گی تو پھر کوئی حل نہیں نکل سکے گا،،، میری اداروں سے بھی دست بستہ اداروں سے التجا ہے کہ اُن لوگوں پر فضول غصہ نہ دکھائیں جو اُن کی رینج میں ہیں،،، بلکہ اُن پر دکھائیں جو اُن کی رینج سے باہر ہیں،،، یا جو انہیں کچھ نہیں سمجھتے،،، لہٰذااس حوالے سے سنجیدگی دکھائیں،،، کیوں کہ سارا پاکستان اسلام آباد نہیں ہے،،، بلوچستان کا رقبہ پاکستان کا 45فیصد ہے، اُس کی فکر کریں،، کے پی کے چار کروڑ عوام سے زائد کا صوبہ ہے، اُس کی فکر کریں،، اگر وہاں بھی حالات آپ کی دسترس میں نہ رہے تو پھر آپ کیا کریں گے؟ خدا کے لیے ہوش کے ناخن لیں،،، خدا کے لیے پاکستان کو بچائیں،، اسے اپنی اناکی بھینٹ نہ چڑھائیں، ڈائیلاگ کریں، بات کریں، باغیوں کے لیے پیکجز کا اعلان کریں، اُنہیں جیسے تیسے کر کے مذاکرات کی میز پر لے کر آئیں، ،،،
اگر وہ کہتے ہیں کہ 50ہزار سے زائد مسنگ پرسن ہیں،،، تو اُن کا جواب دیں، اگر وہ دنیا میں ہیں تو اُن سے ملوا دیں ورنہ اُن کی باقیات ہی دے دیں،،، اگر ماہ رنگ بلوچ وغیرہ کے بڑے مسنگ پرسن ہیں تو اُن کا ازالہ کریں، ،، لیکن اس کے برعکس آپ اگر مزید لوگ پکڑ پکڑ کر جیلوں میں ڈالتے جائیں گے،، یا اُنہیں کیفرکردار تک پہنچاتے جائیں گے تو پھر آپ مزید دشمن بنا لیں گے،،، کیوں کہ جن کا کوئی پیارا چلا جاتا ہے تو اُس کے لیے پھر وہ ریاست کا وفادار نہیں رہتا ،،، بلکہ وہ غداری کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا،،، میں نے اوپر ڈاکٹر عبدالمالک کا نام اس لیے لیا کہ وہ ریاست کے بھی مخالف نہیں تھے، اور عوام کے بھی غدار نہیں تھے،،، بلوچستان میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں،،، جن کی مدد سے ہم بلوچستان میں امن قائم کر سکتے ہیں،،، وہاں اگر لوگ جرگہ سسٹم کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں تو یہ جرگہ سرکار کے زیر انتظام کر دینا چاہیے،،، جس میں قبائلی لوگ بھی شامل ہوں اور سرکار اپنے نمائندے بھی تعینات کرے،،، اور یہ سب فیصلے یکطرفہ مسلط کرنے کے بجائے ڈائیلاگ اور ہم آہنگی کے ساتھ کیے جانے چاہیے،،،
لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا ابھی کا نظام انہیں آگے آنے دیتا ہے؟جب سیاست وفاداری کی بنیاد پر ہو،جب اسمبلی میں بولنے سے زیادہ خاموش رہنے کو انعام ملے،اور جب عوامی درد کو”سیکیورٹی رسک“ سمجھا جائے،،، تو پھر محب وطن لوگ بھی ”غدار“ سمجھے جاتے ہیں،،، اصل المیہ یہی ہے۔اس لیے میرے خیال میں بلوچستان کو بندوق سے نہیں،نہ ہی صرف فنڈز سے،بلکہ بہت قوم پرست چہروں سے جوڑا جا سکتا ہے،،، جو بول سکیں، سن سکیں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہو سکیں۔ورنہ اسمبلیاں تو چلتی رہیں گی،حکومتیں بنتی رہیں گی،لیکن بلوچستان کا دل خالی ہی رہے گا۔
خالی دل سے مراد ریاست پھر وہاں پر سخت آپریشن کرے گی، ناکہ بندیاں کرے گی، سرچ آپریشن کرے گی،،، لیکن یہ سب اقدامات وقتی طور پر شدت کم تو کر دیتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس سے مسئلے کی جڑ ختم ہو رہی ہے؟ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ محض طاقت کا استعمال مسئلے کو دبا تو سکتا ہے، حل نہیں کر سکتا۔میرے خیال میں ہمیں وہاں کے نوجوانوں پر توجہ دینا ہوگی،،، کیوں کہ بلوچستان میں نوجوان سب سے زیادہ متاثر طبقہ ہے۔ بے روزگاری، تعلیمی سہولتوں کی کمی اور سیاسی بے دخلی نے ایک ایسے خلا کو جنم دیا ہے جسے شدت پسند آسانی سے پ±ر کر لیتے ہیں۔ جب نوجوان کو امید، روزگار اور شناخت نہ ملے تو وہ غصے اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور یہی کیفیت دہشت گردی کی سب سے بڑی نرسری بن جاتی ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلوچستان کے عوام کو آج تک یہ یقین نہیں دلایا جا سکا کہ وہ اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ وسائل سے مالا مال صوبہ، مگر عوام بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہیں۔ گیس بلوچستان سے نکلتی ہے، مگر گھروں میں جلتی نہیں۔ معدنیات یہاں کی ہیں، مگر فائدہ کہیں اور پہنچتا ہے۔ یہ احساسِ محرومی دہشت گردی کو اخلاقی جواز تو نہیں دیتا، مگر اس کی زمین ضرور ہموار کرتا ہے۔
سیاسی حل کے بغیر امن ایک خواب ہی رہے گا۔ بلوچستان کے مسئلے کا حل بندوق سے نہیں بلکہ بات چیت، سیاسی شمولیت اور اعتماد سازی سے نکلے گا۔ لاپتہ افراد کا معاملہ ہو، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو یا صوبائی خودمختاری، ان سب پر سنجیدہ اور شفاف پیش رفت ناگزیر ہے۔وفاقی حکومت کو چاہیے کہ بلوچستان کو صرف سیکیورٹی کے زاویے سے نہ دیکھے بلکہ اسے ایک سیاسی مسئلہ تسلیم کرے۔ قوم پرست جماعتوں، منتخب نمائندوں، قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی کو ساتھ بٹھا کر ایک جامع حکمتِ عملی بنائی جائے۔ ایسی حکمتِ عملی جو صرف آج کے حملے کا جواب نہ دے بلکہ آنے والی نسلوں کو امن کی ضمانت بھی دے۔دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں،یہ ایک ناقابلِ قبول جرم ہے۔ لیکن اس جرم کو روکنے کے لیے صرف بندوق کافی نہیں۔ بلوچستان کو امن چاہیے، اور امن انصاف، شراکت اور احترام سے آتا ہے۔ جب تک یہ بنیادی اصول تسلیم نہیں کیے جاتے، بلوچستان کا زخم ہرا ہی رہے گا، اور ہر نیا حملہ ہمیں ہماری اجتماعی ناکامی کا احساس دلاتا رہے گا!

