تھائی لینڈ میں 120 امیدواروں میں سے فاتح قرار پانے والی فاطمہ بوش نے تنازعات کے باوجود تاج حاصل کیا
بنکاک( اے ایف پی)مس میکسیکو فاطمہ بوش کو تھائی لینڈ میں مس یونیورس کا تاج پہنایا گیا، انہوں نے کئی ڈرامائی واقعات اور غلطیوں کے باوجود فائنل راؤنڈ تک پہنچ کر یہ کامیابی حاصل کی، جن میں ایک منتظم کی سرزنش پر احتجاجاً واک آؤٹ بھی شامل تھا۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آئیوری کوسٹ، فلپائن، تھائی لینڈ اور وینزویلا کی امیدوار بھی فائنل مرحلے تک پہنچیں، جنہیں 120 سے زائد خواتین میں سے منتخب کیا گیا تھا۔مس میکسیکو فاطمہ بوش کے تاج پوشی سے قبل بدنظمی کا عالم رہا، جس میں ان کی ذہانت پر الزام، ججز کے مستعفی ہونے اور شرکا کے اسٹیج پر گرنے جیسے واقعات شامل تھے۔
اس ماہ فاطمہ بوش نے ایک میٹنگ سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا، جہاں مس یونیورس تھائی لینڈ کے ڈائریکٹر نوات اِتسرگریسل نے ان پر سخت تنقید کی تھی۔ بعد ازاں، دیگر امیدوار بھی ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئےاٹھیں۔پریس کانفرنس میں فاطمہ بوش نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ انہیں ایک ایسی مس یونیورس کے طور پر یاد رکھا جائے جو خود ہونے سے نہ ڈرتی ہو اور مس یونیورس کے روایتی تصور کو بدلنے میں کردار ادا کرے۔
میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شینباؤم نے بوش کو ’خواتین کو جارحیت کے سامنے آواز اٹھانے‘ کی مثال قرار دیا۔فائنل راؤنڈ سے قبل مزید ڈرامائی واقعات سامنے آئے، جن میں 2 ججز کا استعفیٰ اور مبینہ ’خفیہ ووٹنگ‘ کے الزامات شامل تھے۔ مس یونیورس آرگنائزیشن نے ان دعووں کی تردید کی۔ویلاہیرموسا، میکسیکو میں ہزاروں افراد ایک بیس بال اسٹیڈیم میں جمع ہوئے تاکہ مقابلہ براہِ راست دیکھ سکیں اور بوش کی تاج پوشی کے وقت خوشی کا مظاہرہ کیا۔

