بنگلادیش انتخابات: ’بی جے پی‘ نے ایک نشست جیت کر سب کو حیران کر دیا

ڈھاکا(ایجنسیاں)بنگلادیش میں طلبہ تحریک کے بعد ہونے والے عام انتخابات نے سیاسی منظرنامے کو بدل دیا اور اس میں ایسی جماعتیں بھی کامیاب ہوئیں جنہیں ماضی میں اکثر شکست اور پابندیوں کا سامنا رہا۔

ان انتخابات میں سب کی توجہ اس وقت کھینچی جب ایک نشست جیتنے کے بعد فہرست میں بی جے پی کے نام سے ایک پارٹی سامنے آئی۔ تاہم یہ بھارتی جنتا پارٹی نہیں بلکہ بنگلادیش جاتیہ پارٹی (بی جے پی) ہے، جس نے 13ویں عام انتخابات میں ایک نشست حاصل کی۔ پارٹی امیدوار اندالیو رحمان پارتھو نے بھولا-1 حلقے سے کامیابی حاصل کی۔

بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے مجموعی طور پر 212 نشستیں جیتیں، جن میں سے بی این پی نے اکیلے 209 نشستیں حاصل کیں۔اتحادی جماعتوں میں گنوسمہتی اندولن، بنگلادیش جاتیہ پارٹی (بی جے پی) اور گونو ادھیکار پریشد شامل ہیں جنہوں نے ایک ایک نشست حاصل کی۔

جماعت اسلامی بنگلادیش اور اس کے اتحادیوں نے مجموعی طور پر 77 نشستیں جیتیں، جن میں جماعت نے اکیلے 68 نشستیں حاصل کیں۔کل 50 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا، جن میں 2,028 امیدوار شامل تھے، اور 273 آزاد امیدوار بھی میدان میں تھے۔

“بی جے پی کے پارتھو کی کامیابی”
اندالیو رحمان پارتھو نے 1,05,543 ووٹ حاصل کیے اور اپنے قریبی حریف جماعت اسلامی کے امیدوار محمد نذر الاسلام (75,337 ووٹ) کو شکست دی۔ پارتھو نے انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ بھولا کو جنوبی خطے کا ’تلوتما‘ یعنی ایک جدید اور خوبصورت شہر بنائیں گے۔