ڈھاکا( بی بی سی، اے ایف پی)بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی، جس میں عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی اور انہیں آخری رسومات میں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔
نمازِ جنازہ اور سرکاری تدفین میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور بھوٹان کے وزیر خارجہ لیونپو ڈی این دھنگیل سمیت متعدد غیر ملکی معززین نے شرکت کی۔

خالدہ ضیاء جگر کے عارضے سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا تھیں اور کافی عرصے سے ڈھاکا کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھیں، تاہم گزشتہ روز انتقال کر گئیں۔
واضح رہے کہ خالدہ ضیاء بنگلادیش کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں، جبکہ انہیں مسلم دنیا میں شہید بےنظیر بھٹو کے بعد دوسری خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ انہوں نے 1991 سے 1996 اور پھر 2001 سے 2006 تک بنگلادیش کی وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملک بھر سے لوگوں کی بڑی تعداد ڈھاکا پہنچی، جہاں قومی پرچم میں لپٹی خالدہ ضیاء کی میت کو پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب سے گزارتے ہوئے جلوس کی صورت میں لے جایا گیا۔ اس موقع پر قومی پرچم سرنگوں رہے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
خالدہ ضیاء کی میت ان کے صاحبزادے طارق رحمان کی رہائش گاہ لے جائی گئی جہاں انہوں نے قرآن خوانی کی۔خالدہ ضیاء 80 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد منگل کو انتقال کر گئی تھیں۔ وہ بنگلادیش کے سابق صدر اور ان کے شوہر ضیا الرحمان کے پہلو میں سپردِ خاک کردیاگیا جنہیں 1981 میں قتل کر دیا گیا تھا۔
خالدہ ضیاء نے 1991 اور پھر 2001 میں بنگلادیش کی وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد اور جمہوریت کی بحالی کی علامت سمجھی جاتی تھیں اور کئی برس تک اپنی سیاسی حریف شیخ حسینہ کے ساتھ ملکی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرتی رہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان کی تدفین میں عوام کی غیر معمولی شرکت کو ان کی عوامی مقبولیت اور سیاسی ورثے کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

