ٹورنٹو (نامہ نگار) اونٹاریو لبرل پارٹی کی سربراہ بونی کرومبی نے پارٹی کے سالانہ جنرل اجلاس (AGM) میں قیادت پر اعتماد کے ووٹ میں کمزور حمایت ملنے کے بعد قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہونے والے اجلاس میں مندوبین نے نئی قیادت کے انتخاب پر ووٹ دیا جس میں 57 فیصد نے نئی قیادت کے انتخاب کے خلاف اور 43 فیصد نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا۔ پارٹی کے آئین کے مطابق قیادت برقرار رکھنے کیلئے 50 فیصد سے زائد ووٹ درکار تھے جو کرومبی کو حاصل ہوئے، تاہم کئی اراکین نے مطالبہ کیا تھا کہ اگر 66 فیصد سے کم حمایت ملی تو انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
بونی کرومبی نے ووٹنگ کے نتائج کے چند گھنٹے بعد اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے بہترین مفاد میں وہ قیادت سے علیحدگی اختیار کریں گی اور نئے لیڈر کے انتخاب تک عہدے پر رہیں گی تاکہ قیادت کی منتقلی منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب اجلاس کے فوراً بعد انہوں نے کہا تھا کہ وہ قیادت جاری رکھیں گی کیونکہ فوری طور پر قیادت کی دوڑ پارٹی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یہ AGM فروری کے صوبائی انتخابات کے بعد پہلا بڑا اجلاس تھا جس میں لبرلز نے اپنی نشستیں 9 سے بڑھا کر 14 کر لیں اور پارٹی کو دوبارہ سرکاری حیثیت ملی، تاہم وہ اپوزیشن لیڈر کا درجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور بونی کرومبی اب بھی اسمبلی میں نشست حاصل نہیں کر سکیں۔
پارٹی کے آئین کے مطابق قیادت برقرار رکھنے کیلئے50 فیصد سے زیادہ ووٹ درکار ہوتے ہیں، تاہم کینیڈین سیاسی روایت میں عام طور پر رہنما کم حمایت ملنے پر مستعفی ہو جاتے ہیں۔
ماضی میں وفاقی پروگریسو کنزرویٹو رہنما جو کلارک نے 1983 میں 66.9 فیصد حمایت حاصل کرنے کے باوجود استعفیٰ دیا تھا اور دوبارہ انتخاب میں حصہ لیا، لیکن شکست کھائی۔ اسی طرح البرٹا کے رہنما رالف کلین (55.4 فیصد) اور جیسن کینی (51.4 فیصد) نے بھی کم حمایت پر استعفیٰ دے دیا تھا۔
2011 میں اونٹاریو کے اس وقت کے پریمیئر ڈالٹن میکگنٹی نے اپنی اکثریت کھونے کے باوجود قیادت پر اعتماد کے ووٹ میں 85.8 فیصد حمایت حاصل کر کے اپنا عہدہ برقرار رکھا تھا۔
کرومبی کی مخالفت کرنے والے گروپ “نیو لیف لبرلز” نے نتائج سے قبل مطالبہ کیا تھا کہ اگر دو تہائی سے کم ووٹ ملیں تو کرومبی مستعفی ہو جائیں۔

