بھارت اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات میں اہم پیشرفت: ہائی کمشنرز کی بحالی پر اتفاق

البرٹا(بیورورپورٹ)بھارت اور کینیڈا کے درمیان تعلقات میں ایک نمایاں سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے، جب دونوں ممالک نے باہمی مشاورت کے بعد اپنے ہائی کمشنرز کی بحالی پر اتفاق کر لیا۔ یہ اعلان G7 سربراہی اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے بعد سامنے آیا۔

وزیر اعظم مارک کارنی کی دعوت پر وزیر اعظم مودی نے G7 اجلاس میں مہمان ملک کے نمائندے کے طور پر شرکت کی، جو کہ کناناسکیس، البرٹا میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے علاوہ، دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی علیحدہ ملاقات میں تعلقات کی بحالی، باہمی اعتماد کی بحالی، اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد وزیر اعظم مودی نے کہا”ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات نہایت اہم ہیں۔ میں کینیڈا کو جی 7 میں مدعو کرنے پر شکر گزار ہوں اور 2015 کے بعد ایک مرتبہ پھر یہاں آنے اور کینیڈین عوام سے جڑنے پر خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں۔”

واضح رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کے نتیجے میں چھ، چھ سفارتکاروں کو واپس بلایا گیا تھا۔ اب، دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی باہمی رضامندی سے طے پایا ہے کہ ہائی کمشنرز کو جلد از جلد دوبارہ تعینات کر دیا جائے گا۔

بھارتی خارجہ سیکرٹری وکرم مصری کے مطابق”دونوں رہنماؤں کے درمیان مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی، جس کے نتیجے میں سفارتی سطح پر تعلقات کی مکمل بحالی اور تعطل کے شکار تجارتی مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔”

اس اہم ملاقات کے موقع پر مودی نے دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، میکسیکو کے صدر کلاڈیا شین بام پارڈو، آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانی، جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا، اور جنوبی کوریا کے صدر لی جیونگ میونگ شامل تھے۔

اجلاس کے اختتام پر وزیر اعظم مودی کروشیا کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے۔یہ پیشرفت بھارت اور کینیڈا کے درمیان تعلقات کو نئی سمت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو نہ صرف سفارتی فضا کو سازگار بنائے گا بلکہ دو طرفہ تجارت، تعلیم، ویزا پالیسی، اور کمیونٹی روابط جیسے اہم شعبوں میں بھی بہتری کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں