بھارت نے اپنی تاریخ کا سب سے بھاری سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کر دیا

نئی دہلی (غیر ملکی خبر رساں ادارے)بھارت کی خلائی ایجنسی نے اپنی تاریخ کا اب تک کا سب سے بھاری پے لوڈ کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے خلائی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ایل وی ایم تھری ایم سکس راکٹ کے ذریعے امریکا میں تیار کردہ اے ایس ٹی اسپیس موبائل کمیونی کیشن سیٹلائٹ کو نچلے زمینی مدار میں پہنچایا گیا۔

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے مطابق یہ بھارتی سرزمین سے لانچ کیا جانے والا اب تک کا سب سے بھاری پے لوڈ ہے، جس کا وزن 6 ہزار 100 کلوگرام ہے۔ اسرو کا کہنا ہے کہ یہ لانچ بھارت کے کم لاگت مگر بلند عزائم پر مبنی خلائی پروگرام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جس کے تحت آئندہ برسوں میں بغیر انسان کے مدار میں مشن اور انسانی خلائی پروازوں کا منصوبہ شامل ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق یہ سیٹلائٹ ایک ترمیم شدہ راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا، جسے مستقبل کے خلائی مشنز میں استعمال کرنے کا ارادہ ہے۔ بھارت تیزی سے پھیلتے ہوئے کمرشل سیٹلائٹ بزنس میں بھی بڑا حصہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں فون، انٹرنیٹ اور دیگر کمپنیاں جدید اور وسیع کمیونی کیشن سہولیات کی متلاشی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ لانچ بھارت کے خلائی سفر میں ایک قابلِ فخر سنگِ میل ہے، جس سے بھارت کی ہیوی لفٹ لانچ صلاحیت مضبوط ہوئی ہے اور عالمی کمرشل لانچ مارکیٹ میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔

اس سے قبل رواں سال اسرو نے سی ایم ایس زیرو تھری کمیونی کیشن سیٹلائٹ لانچ کیا تھا جس کا وزن تقریباً 4 ہزار 410 کلوگرام تھا۔ بھارتی خلائی ادارے کے مطابق بھارت 2027 میں پہلی انسانی خلائی پرواز سے قبل ایک بغیر انسان کے مدار میں مشن لانچ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جبکہ نریندر مودی اس سے قبل 2040 تک ایک خلاباز کو چاند پر بھیجنے کے عزم کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔