بھارت کا جارحانہ رویہ، قومی اتحاد کیوں نہیں؟

بھارت کی طرف سے پہلگام (مقبوضہ کشمیر) کے واقع پر جو شدت اختیار کی گئی وہ غیر معمولی ہے اور جو اقدامات کے گئے وہ اشتعال انگیز ہیں،پاکستان کے مطابق اس واقع کی مذمت کی گئی حقیقی معنوں میں تو دہشت گردی سے پاکستان متاثر ہے جس کے جوان شہادت قبول کر کے فتنہ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں،ہمارے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا یہ موقف سو فیصد درست ہے کہ بھارت نے اس واقعہ کو عذر بنا کر اپنے دیرینہ خبث باطن کا مظاہرہ کیا اور انتہاء پسندی کا راستہ اختیار کیا کہ کسی بھی ثبوت کے بغیر متاثرین کی شناخت سے بھی پہلے نہ صرف پاکستان پر الزام دھر دیا،بلکہ ایسے اقدامات کا اعلان کیا جن کی وجہ سے خطے میں ہنگامی صورت حال بن گئی اور پاکستان کو بھی جوابی انتظامات اور موقف کی ضرورت پڑ گئی۔

دفاعی اور خارجی امور کے ماہرین اپنے اپنے تجربہ کی بنیاد پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں،میں جیک آف آل میں سے ہوتے اپنے سامنے گذرے واقعات یا حالاتِ حاضرہ کی بنیاد پر بات کر سکتا ہوں۔ بھارتی وزیراعظم مودی برسر اقتدار جماعت بی جے پی اور انتہاء پسندوں سے بھارتی اپوزیشن لیڈر نے سوال کیا کہ اپنی کوتاہی تسلیم کریں اور وزیراعظم مودی ناکامی کی ذمہ داری لیں۔اس سے زیادہ موثر سری نگر کے باسیوں نے پوچھا کہ پہلگام میں جہاں یہ واقع ہوا وہاں تک کوئی ٹرانسپورٹ نہیں جا سکتی، پرندہ پر نہیں مار سکتا تو یہ دہشت گرد کہاں سے آ گئے۔اس حقیقت کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ حاضر سروس بھارتی فوجیوں کے علاوہ سکیورٹی فورسز اور پولیس بھی موجود ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کا یہ ضلع پہلگام تو بھارتی حکمت عملی کا شاہکار ہے،اس کے نوجوانوں کو کسی عذر اور جرم کے بغیر گرفتار کیا جاتا، شہید کیا جاتا اور بلا اجازت اور بغیر وارنٹ فوج گھروں میں گھس جاتی ہے جبکہ غیر کشمیری انتہاء پسند لیڈروں کی آباد کاری کا نشانہ بھی پہلگام ہے، لہٰذا اس کے تفریحی مقام پر ایسا پُرتشدد سانحہ سوالیہ نشان کا حق دار تو ہے۔یوں بھی دنیا بھر میں اصول ہے کہ جرم کی تحقیق کے بغیر الزام نہیں لگایا جاتا،پاکستان کی طرف سے اگر مداخلت اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا تو اس کے ثبوت میں کلبھوشن بھی موجود ہے،جبکہ اس نے اقبالِ جرم کیا۔بھارت نے پہلے لاتعلقی سے کام لینے کی کوشش کی، لیکن کلبھوشن کے اہل خانہ کے دباؤ پر عالمی عدالت کے پلیٹ فارم پر اسے اپنا شہری اور سرکاری ملازم تسلیم کیا اور پھر یہ کوئی پہلا واقعہ یا حادثہ نہیں۔بھارت کا تو یہ شیوہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر تو اپنی جگہ، بھارت کے کسی اور شہر میں اندرونی جھگڑا بھی ہو تو انگلی پاکستان کی طرف اُٹھا دی جاتی ہے۔

مجھے ورلڈ پنجابی کانگرس اور لاہور پریس کلب کے تبادلہ وفود کے ساتھ پانچ چھ بار بھارت جانے کا موقع ملا،وہ دور بی جے پی کا نہیں تھا اِس لئے وفود کے تبادلے ہو جاتے تھے،ہمیں زیادہ تر صحافیوں۔ وکلاء ادیبوں اور معزز شہریوں سے تبادلہ خیال کا موقع ملتا رہا تو احساس ہوا کہ عام لوگ دو دوست اور ہمسایہ ملک کی طرح رہنے کے خواہش مند ہیں لیکن انتہاء پسندانہ پروپیگنڈے سے متاثر حضرات تقسیم والی لکیر کا رونا روتے تھے اور ان کو جواب بھی دینا پڑتا تھا تاہم وکلاء، ادیبوں اور صحافیوں سے ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کے دوران یہ امر واضح ہوا یہ سب لوگ اس کی خاطر ڈائیلاگ اور بات چیت چاہتے تھے اور امن کے حالات پسند کرتے تھے اور ہیں، لیکن گذشتہ دو بار کے انتخابات اور اب پھر مودی کا وزیراعظم ہونا خطے کے لئے بدقسمتی ہے کہ مودی تو سانحہ گجرات سے انتہاء پسندی پر مائل اور شدت پسندوں کے ساتھ اکھنڈ بھارت کا پرچارک ہے اس لئے اس سے خیر کی توقع عبث ہے۔

یہ تو تشدد اور انتہاء پسند جماعت اور مودی کے رویے کی بات ہے، جبکہ گذشتہ بارہ سالوں میں یہ شدت بہت بڑھا دی گئی ہے، جس کی وجہ سے پاک بھارت تعلقات انتہائی نچلی سطح تک جا چکے تھے۔پاکستان کی طرف سے ہمیشہ ثبوتوں کی بنیاد پر الزام لگایا اور کبھی بدامنی کی بات نہیں کی گئی کہ ہم تو خود دہشت گردی کے شکار ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ان سے ٹکراؤ ہوتا ہے۔ خارجی اور شر پسند مارے جاتے ہیں تو ہمارے جوان بھی شہید ہوتے ہیں،اس کی بناء پر ہمارا ملک متاثر ہے۔

میں پہلے بھی کئی بار گذارش کر چکا ہوں کہ1965ء اور 1971ء کی جنگوں کا شاہد ہوں کہ رپورٹر کی حیثیت سے پہلے اور اس کے بعد کی بھرپور کوریج کی اور پھر میجر جنرل (ر) تجمل ملک (مرحوم) کی شفقت سے پورے ایریا میں جانے کی اجازت تھی اور یوں جنگ سے پہلے اور بعد کے حالات کی بھرپور کوریج کا موقع مل گیا۔یہ تجربہ اور تعلق 1971ء میں بھی کام آیا، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ بھارت کے انتہاء پسندوں کی نیت کبھی بھی صاف نہیں تھی اور نہ ہے، پانچ، چھ ستمبر1965ء کی شب کو حملہ بھی کشمیر کی بنیاد پر تھا کہ ہمارے مہربانوں کی وجہ سے سے جوان مقبوضہ کشمیر کے بڑے حصے کو تسخیر کرنے جا رہے تھے اور اسی خدشے کی وجہ سے بین الاقوامی سرحد پر بلا کسی وارننگ حملہ کیا گیا جسے ہمارے مجاہدین نے دلیری اور جرأت سے روکا اور ملک کا بھرپور دفاع بھی کیا۔

قارئین!اب تو حالات مختلف ہیں،65ء میں جدید آلات حرب معہ جنگی ہوائی جہازوں کے ہماری ایئر فورس نے ناکوں چنے چبوا دیئے تھے اور بھارت کی ایئر فورس کو ناکارہ بنا دیا تھا اور اب جب اسلحہ سازی میں بہت ترقی ہو چکی۔بھارت اور پاکستان ایٹمی صلاحیت کے مالک ہیں اس دور میں بھی ہمارے ایئر فورس کے جوان بھارتی ہوا بازوں سے کہیں بہتر ثابت ہوئے اور بھارت کے فالس حملے کو نہ صرف روکا بلکہ دہ جہاز بھی مار گرائے۔ اب بھی یہ جوان بہتر تربیت یافتہ ہیں اور میزائل سازی میں میرا ملک زیادہ بہتر ہے۔یوں بھی ایٹمی صلاحیتوں اور اسلحہ کی موجودگی کے باعث موجود دور کی جنگ تباہ کن ہو گی اور بھارت کو وہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے ایٹم پھلجھڑی چلانے کے لئے نہیں رکھے ہوئے اِس لئے بہتر عمل تحمل ہے اور اس کے لئے عالمی رہنماؤں کو مداخلت کرنا ہو گی۔دوست ممالک کو پورا اثر و رسوخ استعمال کر کے انتہاء پسند مودی کو لگام ڈالنا ہو گی۔

اب ذرا خود اپنے ملک کی بات کر لی جائے۔ 1965ء میں تو ناراض تر اپوزیشن چل کر عمر ایوب کے دادا جنرل ایوب کے پاس چلی گئی اور اپنے تعاون کا مکمل یقین دلایا اور حقیقت یہ ہے اس سترہ روزہ جنگ کے دوران پوری قوم یکجان تھی،لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ تحریک انصاف نے کھل کر وحدت کی بات نہیں کی، الٹا دادا کے پوتے عمر ایوب اپنے لیڈر، مرشد کی رہائی کا رونا لے کر بیٹھ گئے ہیں اور ان کی طرف سے نہ تو بھارتی مذمت اس طرح کی گئی جیسا حق ہے اور نہ ہی قومی یکجہتی کے لئے غیر مشروط اعلان کیا گیا کہ اب مکمل قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔

خدارا! اپنے اپنے خول سے باہر آئیں،ہندو آپ کا دوست نہیں، وہ کسی کو معاف کرنے کا قائل نہیں،آپ سب کو سب شکوے بھلا کر ایک جان ہو جانا چاہئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں