جبل پور(ایجنسیاں)بھارت میں ایک 19 سالہ طالب علم اتھراوا چترویدی نے خود اپنے مقدمے میں سپریم کورٹ میں دلائل دے کر ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کر لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اتھراوا نے این ای ای ٹی ٹیسٹ دو بار دیا اور 530 نمبر حاصل کیے، لیکن اسے کمزور معاشی پس منظر کے لیے مختص پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں داخلہ نہیں ملا کیونکہ ریاستی حکومت نے وہاں ریزرویشن پالیسی نافذ نہیں کی تھی۔
اتھراوا نے چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بینچ کے سامنے 10 منٹ دلائل دیے۔ چیف جسٹس نے اس کے موقف کو سنا اور نیشنل میڈیکل کمیشن اور مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ٹیسٹ میں کامیاب معاشی طور پر کمزور امیدواروں کو عارضی داخلہ فراہم کریں۔
اتھراوا چترویدی کے لیے یہ محض قانونی فتح نہیں بلکہ ایک خواب کی حقیقت بن گئی۔ اس نے ثابت کیا کہ عزم اور خود اعتمادی بڑے چیلنجز کو بھی شکست دے سکتی ہے، اور اپنے علم اور حوصلے پر بھروسہ کرکے دیگر طلبہ کے لیے متاثر کن مثال قائم کی۔

