اقوام متحدہ کے تحت 22مارچ کا دن پانی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں دریائوں کے پانی کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دریائوں کو خشک کرنے کی ذمہ داری کسی حد تک سندھ طاس معاہدے پر آتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم جواہر نعل نہرو اس معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان آئے۔ اس معاہدے پر 19ستمبر 1960ء کو کراچی میں جواہر لعل نہرو اور فیلڈمارشل محمد ایوب خان نے دستخط کئے۔ سندھ طاس معاہدے کی دستاویزات کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ اس معاہدے کی میعاد ختم ہونے کی کوئی شق موجود نہیں ہے اور نہ ہی یہ معاہدہ کسی ایک فریق کو اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ اسے یکطرفہ طور پر ختم کردے۔ معاہدے کی نگرانی کے لیے پاکستان اور بھارت میں انڈس واٹر کمشنر کے مستقل دفاتر قائم ہیں۔ اعلیٰ عہدے کے بااختیار یہ کمشنر اپنے اپنے ملکوں کے نمائندوں کے طور پر سندھ طاس معاہدے کے معاملات دیکھتے ہیں، معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے گفتگو کے ریگولر چینلز کو استعمال میں لاتے ہیں اور کسی تنازعے کے حل نہ ہونے کی صورت میں نیوٹرل ایکسپرٹ سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے پرعمل درآمد کے دوران بھارتی رکاوٹوں کے باعث اکثر پاکستان کو نیوٹرل ایکسپرٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات بھارتی انتہاپسند لیڈر اور ان کا میڈیا پاکستان پر یہ احسان جتلاتے ہیں کہ بھارت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے بالائی حصے کا مالک ہونے کے باعث ان کے استعمال کا مکمل حق رکھتا ہے لیکن پھر بھی 80فیصد پانی پاکستان کو دے رہا ہے۔ بھارتیوں کو یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ تاریخی حقائق اور انٹرنیشنل اخلاقیات کے مطابق مندرجہ بالا دریائوں پر پاکستان کا 100فیصد حق ہے۔ یہ تو امریکی دبائو تھا جس کے باعث جنرل ایوب خان نے پاکستانی لوگوں کو مذکورہ دریائوں کے 20فیصد پانی سے سندھ طاس معاہدے کے تحت محروم کردیا۔ سندھ طاس معاہدہ کیسے عمل میں آیا؟ آئیے اس پر مختصر نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد ہندوستان نے کشمیر سے نکلنے والے دریائوں کو اپنی جاگیر سمجھ لیا۔ بھارت کی ہٹ دھرمی اور پیاسے پاکستان کی تڑپ کے باعث دونوں نئی ریاستوں کے درمیان معاملہ طول پکڑتا گیا اور انٹرنیشنل برادری کو اس خطے میں بارود کی بو آنے لگی۔ تب امریکی اٹامک انرجی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈیوڈللِی اِنتھال نے یہاں کا دورہ کیا ۔ اگرچہ ان کے اس ٹور کا مقصد مشہور کولیئرز میگزین کے لیے واٹرایشو پر ایک تحقیقی سیریز لکھنا تھامگر دونوں ملکوں میں ان کا استقبال اعلیٰ ترین سطح پر کیا گیا۔ ڈیوڈ کا یہ دورہ میگزین نے سپانسر کیا تھا لیکن آنے سے قبل انہیں امریکہ کی ایگزیکٹو برانچ کے افسران سمیت سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی بریف کیا کہ وہ بھارت اور امریکہ کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے لیے پل کاکام کریں نیز وہ خطے میں پائی جانے والی دریائوں کے پانی پر کشیدگی کو بھی کم کرنے کی کوشش کریں۔ ڈیوڈنے یہاں کی صورتحال کا پوری طرح جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’’انڈیا اور پاکستان کشمیر کے مسئلے پرجنگ کے دہانے پر ہیں۔ جب تک اس معاملے پر انتہائی کشیدگی برقرار ہے اُس وقت تک دونوں ملکوں میں مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ کشیدگی کم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُن پہلوئوں پر غور کیا جائے جہاں دونوں ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ تعاون کرسکتے ہیں۔ ان ایریاز میں کامیابی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان رنجش کم ہوگی جو ہوسکتا ہے انہیں کشمیر کے حل کی طرف لے جائے۔ لہٰذا میں تجویز کرتا ہوں کہ انڈیا اور پاکستان ایک ایسا پروگرام مرتب کریں جس کے تحت دونوں Indus Basin River System کو مل کر چلائیں اور مل کر ڈویلپ کریں۔ اس سلسلے میں ورلڈبینک دونوں ملکوں کو کسی معاہدے پر لانے اور مالی مدد فراہم کرنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرسکتا ہے‘‘۔ امریکہ سے ڈیوڈ کی اس مشن پر روانگی سے قبل جب پاکستانی پریس بھارتی آبی جارحیت پر شور مچا رہا تھا اور دنیا کو بھارتی عزائم سے آگاہ کررہا تھا تو عین اس وقت بھارت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی یہی کہا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کشمیر پر ہروقت چیختے چلاتے رہیں گے لیکن برصغیر میںامن کے لیے کشمیر سے نکلنے والے دریائوں کے پانیوں کے مسئلے کا فوری حل بہت ضروری ہے۔ اگر ہم غور کریں تو اس بھارتی اعلیٰ عہدیدار کی بات کو ہی ڈیوڈ نے اپنی رپورٹ میں ایک نئے انداز سے پیش کیا۔ بعد ازاں شائد طے شدہ منصوبے کے مطابق ڈیوڈ کی تجویز کو ورلڈبینک کے ساتھ ساتھ انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں نے بھی مان لیا۔ انٹرنیشنل بینک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ جس کا موجودہ نام ورلڈ بینک ہے کے اس وقت کے صدر یوجین آر بلیک نے کہا تھا کہ یہ معاملہ سیاسی سے زیادہ انجینئرنگ نوعیت کا ہے اور اسے انجینئروںکی سطح پر ہی حل ہونا چاہئے کیونکہ تمام دنیا کے انجینئر ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ مندرجہ بالا بحث میں اہم ترین بات یہ ہے کہ اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے معاہدے پر دستخط کے بعد واپس جاکر جو رپورٹ لکھی اس میں یہ جملہ صاف صاف تحریر کیا کہ پاکستانی صدر جنرل محمد ایوب خان میرے سامنے کشمیر کا مسئلہ باربار اٹھاتے رہے اور میں انہیں مسلسل ٹالتا رہا، اس طرح کشمیر پرکوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ یہ دستاویز ابھی بھی وزیراعظم سیکرٹریٹ نئی دہلی میں موجود ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ہو یا کشمیر سے نکلنے والے پانی کا مسئلہ بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول ہی جھونک رہا ہے۔

