سابق بھارتی کرکٹر وریندر سہواگ نے سلیکشن کمیٹی کے رکن وہاب ریاض پر جانبداری کا الزام لگایا جبکہ محمد عامر جیسے کھلاڑیوں کی قومی اسکواڈ میں واپسی میں سہولت کاری کیلئے بھی وہاب ریاض کا نام لیا۔ وریندر سہواگ نے کہا کہ وہاب ریاض اور محمد عامر یہ وہ دو نام ہیں جنہوں نے ایک ہی ٹی وی چینل پر پاکستانی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنایا، اپنے تبصرے میں۔ آج ان میں سے ایک سلیکٹر یعنی کے وہاب ریاض ہے اور ایک پلیئنگ الیون یعنی کہ محمد عامر ٹیم کا حصہ ہے۔” سہواگ نے ستم ظریفی اور مفادات کے ممکنہ تصادم پر روشنی ڈالی اور وہاب ریاض کے زیر اثر انتخاب کے عمل کی سالمیت پر سوالیہ نشان لگایا۔
سہواگ کا یہ تبصرہ کرکٹ ٹیموں میں کھلاڑیوں کے انتخاب کی شفافیت اور منصفانہ ہونے کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان آیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ذاتی تعصبات سے پاک ٹیم کے طویل مدتی مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔
وریندر سہواگ بولے کہ وہی لوگ جو تنقید کر رہے تھے اگر آج ان کے پاس اقتدار ہے یعنی سلیکٹر بن گئے تو انہوں نے پہلے کیا کیا؟ طنز کرتے ہوئے بولے کہ وہاب ریاض کی سوچ ہے کہ محمد عامر میرے ساتھ تھے، آئیے انہیں منتخب کرتے ہیں۔
یہ ایسا ہی ہے کہ اگر اجیت اگرکر آج (بی سی سی آئی سلیکشن کمیٹی کے) چیئرمین ہیں، تو وہ کہیں گے ‘ویرو کے پاس آؤ، ظاہر خان آؤ’، میں تمہاری واپسی کو آسان کروں گا،” سہواگ نے ہندوستانی کرکٹ کے منظر نامے کو متوازی بناتے ہوئے مزید کہا۔
سابق اوپنر کے بیانات نے مداحوں میں بحث چھیڑ دی ہے، جس نے ذاتی وابستگیوں سے متاثر انتخابی پالیسیوں کی پیچیدگیوں اور ممکنہ نقصانات پر روشنی ڈالی ہے۔
سہواگ نے پاکستانی سلیکٹرز پر زور دیا کہ وہ جانبداری سے گریز کریں اور ٹیم کے مستقبل پر توجہ دیں، سیاسی وابستگیوں کو پورا کرنے کے بجائے ٹیم کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری فیصلے کریں۔

