بھارتی مصنوعات پر امریکی ٹیرف سے جنوبی ایشیا کی معشیت متاثر ہوگی:عالمی بینک

واشنگٹن(رائٹرز، فنانشل ٹائمز، دی اکنامسٹ، بی بی سی)عالمی بینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر عائد کیے گئے بلند ٹیرف سے 2026 میں جنوبی ایشیا کی معاشی ترقی کی رفتار کم ہونے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ خطے کی معیشت 2025 میں حکومتی اخراجات کے باعث مضبوط رہے گی، تاہم اگلے سال اس میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال جنوبی ایشیا میں مجموعی ترقی کی شرح 6.6 فیصد رہنے کی توقع ہے، مگر 2026 میں اس کے 5.8 فیصد تک گرنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کو شامل کیا گیا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق 2026 کے لیے پیش گوئی میں کمی کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر توقع سے زیادہ ٹیرف عائد کرنا ہے، جس کے باعث خطے کی برآمدی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کی موجودہ مالی سال (جو مارچ 2026 میں ختم ہوگا) کے لیے ترقی کی شرح کا تخمینہ 6.3 فیصد سے بڑھا کر 6.5 فیصد کر دیا گیا ہے، تاہم اگلے مالی سال کے لیے یہ تخمینہ 6.5 سے گھٹا کر 6.3 فیصد کر دیا گیا ہے، کیونکہ امریکی ٹیرف سے برآمدی شعبہ دباؤ میں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بھارتی برآمدات پر 50 فیصد درآمدی محصولات عائد کیے ہیں، جو امریکا کے کسی بھی بڑے تجارتی شراکت دار کے لیے سب سے زیادہ شرحوں میں سے ایک ہے۔
امریکی فیصلے سے تقریباً 50 ارب ڈالر مالیت کی بھارتی برآمدات متاثر ہوں گی، جن میں ٹیکسٹائل، قیمتی پتھروں، زیورات اور جھینگا (شرمپ) کی صنعتیں شامل ہیں۔

ان اثرات کو کم کرنے کے لیے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے گزشتہ ماہ ٹیکس اصلاحات کا اعلان کیا، جن کے تحت شیمپو سے لے کر کاروں تک تقریباً تمام اشیاء پر ٹیکس میں کمی کی گئی۔ یہ 2017 کے بعد بھارت کی سب سے بڑی ٹیکس اصلاحاتی مہم قرار دی جا رہی ہے۔

اس کے باوجود، بھارت انفرا اسٹرکچر منصوبوں پر بڑے پیمانے پر اخراجات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مقامی روزگار اور ترقی کا عمل جاری رہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں بھارت کی کل برآمدات کا تقریباً 20 فیصد امریکا کو بھیجا گیا۔ نئے ٹیرف ان اشیاء پر لاگو ہیں جو بھارت کی کل امریکی برآمدات کا تقریباً تین چوتھائی حصہ بنتی ہیں۔عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اگر تجارتی دباؤ برقرار رہا تو جنوبی ایشیا کی مجموعی ترقی کی رفتار آنے والے برسوں میں مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں