چندی گڑھ/نئی دہلی (ایجنسیاں) — بھارتی پنجاب میں کرپشن کے الزام میں ایک سینئر پولیس افسر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے پاس سے کروڑوں روپے اور لگژری گاڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔
بھارت کی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے پنجاب میں تعینات ایک سینئر انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) افسر کو کرپشن کیس میں گرفتار کیا، جس کا آغاز مبینہ طور پر 8 لاکھ روپے کی رشوت کے مطالبے سے ہوا تھا۔

تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ افسر کے پاس بڑی تعداد میں غیر قانونی دولت موجود ہے، جس میں تقریباً 5 کروڑ روپے نقدی، قیمتی گاڑیاں، زیورات اور لگژری گھڑیاں شامل ہیں۔
گرفتار افسر کی شناخت ڈی آئی جی ہرچرن سنگھ بھلر کے طور پر ہوئی ہے، جو 2009 بیچ کا آئی پی ایس افسر ہے۔ اس کے ساتھ ایک نجی شخص کرشنا کو بھی گرفتار کیا گیا، جو مبینہ طور پر اس کا ایجنٹ تھا۔سی بی آئی کے مطابق افسر نے ایک مقامی کاروباری شخص کے خلاف مقدمہ “سیٹل” کرنے کیلئے رشوت مانگی اور باقاعدہ ماہانہ ادائیگیوں کا مطالبہ کیا۔
تفتیش کے دوران افسر کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد ہوا، جس میں ڈبل بیرل بندوق، پستول، ریوالور اور ایئر گن شامل ہیں، جبکہ کرشنا کے گھر سے مزید 21 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے ہیں۔دونوں ملزمان کو آج عدالت میں پیش کیا جائیگااور تحقیقات جاری ہیں تاکہ دولت کے ذرائع اور ممکنہ منی لانڈرنگ کے تعلقات کا پتہ چلایا جا سکے۔

