بی سی میں قتل:مشتبہ شخص کیخلاف تشدد کے سنگین شواہد کے باوجود ضمانت پر رہائی

وینکوور (کینیڈین پریس+نامہ نگار)برٹش کولمبیا میں پولیس کے خفیہ تشدد رسک اسیسمنٹ ٹول کے مطابق سنگین خطرات کے حامل ایک شخص کو پولیس نے صرف 500 ڈالر کی ضمانت پر رہا کر دیا، جس کے چند گھنٹے بعد اس کی علیحدہ رہنے والی بیوی کو ہتھوڑے کے وار سے قتل کر دیا گیا۔

عدالت میں پیش شواہد کے مطابق جیمز پلوور کے خلاف اہلیہ کو گلا دبانے اور دھمکیاں دینے کے الزامات ثابت ہوئے تھے اور پولیس کے خفیہ ٹول میں درج تمام نشانات،بشمول خودکشی کی کوشش، بڑھتی ہوئی پرتشدد حرکات اور سابقہ دھمکیاں،اس پر صادق آتے تھے۔ اس کے باوجود اسے رہا کیا گیا۔

رہائی کے تین گھنٹے بعد بَیلی میکورٹ کو ایک پارکنگ لاٹ میں شدید زخمی حالت میں پایا گیا جو بعد ازاں دم توڑ گئیں۔ اگلے روز پلوور کو گرفتار کر کے قتل کے الزام میں چارج کیا گیا۔

اس افسوس ناک واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے عدالتی و قانونی محکموں کیلئے نیا فریم ورک متعارف کرایا، جبکہ وفاقی حکومت نے بھی خواتین کے خلاف تشدد روکنے کیلئے نئی قانون سازی پیش کی ہے۔

ماہرین اور خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم تنظیموں نے کہا ہے کہ رسک اسیسمنٹ کے یہ ٹولز پہلے سے موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد غیر مربوط اور ناکافی ہے۔ پولیس کے خفیہ کارڈ میں خطرات کے نو نکات درج ہیں جنہیں ضمانت کے مرحلے پر بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

بچوں اور خواتین کے تحفظ سے متعلق تنظیموں نے کہا ہے کہ اگر پولیس رسک اسیسمنٹ بروقت مکمل کرے تو عدالتیں بہتر فیصلے کر سکتی ہیں اور ایسے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔

بی سی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ عدالتی عمل میں یکسانیت لانے اور رسک اسیسمنٹ کو مؤثر بنانے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

وفاقی حکومت نے نئے پروٹیکٹنگ وکٹمز ایکٹ میں گھریلو تشدد کے نتیجے میں ہونے والی خواتین کی ہلاکت (فی می سائڈ) کو پہلے درجے کے قتل میں شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے، جبکہ ضمانت سے متعلق سخت ترامیم بھی شامل کی گئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطرات پہلے سے واضح ہوتے ہیں، لیکن نظام کی طرف سے مناسب ردعمل نہ ہونے کی وجہ سے ایسے سانحات جنم لیتے ہیں، جنہیں مؤثر عملدرآمد سے روکا جا سکتا ہے۔