بیروت(اے ایف پی)اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بیروت میں فضائی حملے کے دوران حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف کو نشانہ بنایا ہے۔اے ایف پی کے مطابق لبنان کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی کہ حملے میں ایک شخص شہید اور 21 زخمی ہوئے، جنہیں ابتدائی اعداد و شمار قرار دیا گیا ہے۔
لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق حملہ بیروت کے جنوبی مضافاتی گنجان آباد علاقے میں ہوا جہاں حزب اللہ کا اثر و رسوخ ہے۔ حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ حملے کے احکامات خود وزیرِ اعظم نے دیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بیروت کے قلب میں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف کو نشانہ بنایا اور اسرائیل ہر جگہ اور ہر وقت اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہے۔
اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق حملے میں 9 منزلہ عمارت کی تیسری اور چوتھی منزل کو نشانہ بنایا گیا۔ این این اے کا کہنا ہے کہ حارت حریک کے علاقے میں عمارت پر تین میزائل داغے گئے جس سے قریب کی گاڑیوں اور ڈھانچوں کو نقصان پہنچا۔
ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق اسرائیل نے حملے سے قبل امریکا کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ اہلکار نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ کو حملے کے فوراً بعد مطلع کیا گیا۔ ایک دوسرے اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن کو کئی دنوں سے علم تھا کہ اسرائیل لبنان میں حملے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری لبنان اور اس کے عوام پر حملوں کو روکنے کے لیے سنجیدہ اور موثر اقدامات کرے۔

