تارکین وطن سے متعلق اسائلم پالیسی پر ہاؤس آف کامنز میں اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی)کینیڈا کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں “ہاؤس آف کامنز” میں آج اس وقت زبردست گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ارپن کھنہ (Arpan Khanna) نے موجودہ لبرل حکومت کی اسائلم پالیسی کو “نظام کی ناکامی” قرار دیا اور کہا کہ پناہ گزینوں کو بنا کسی تصدیق کے چار سال تک سرکاری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ارپن کھنہ (Arpan Khanna)نے کہا”یہ ناقابلِ یقین ہے! اسائلم کلیمز کو مکمل ہونے میں اوسطاً چار سال لگتے ہیں، اور اس دوران پناہ گزینوں کو مفت رہائش، خوراک، علاج، کپڑے، ورک ویزا اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، چاہے ان کی درخواست درست ہو یا نہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ امیگریشن وزیر کا یہ کہنا کہ اسائلم کلیمز 14 ماہ میں نمٹائے جاتے ہیں، ان کی اپنی وزارت کی ویب سائٹ کے اعداد و شمار سے متصادم ہے۔

اس موقع پر لبرل پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اور وفاقی وزیر برائے امیگریشن، ریفیوجیز و سٹیزن لینا ڈیاب(Lena Metlege Diab) نے اپوزیشن کے الزامات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا”کینیڈا ایک ذمہ دار ملک ہے اور ہم اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے مہاجرین کے پابند ہیں۔ ہر اسائلم کلیم کو منصفانہ انداز میں سنا جاتا ہے۔ پناہ کے متلاشی افراد عام طور پر جنگ، مذہبی ظلم یا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے فرار ہو کر آتے ہیں۔”

لینا ڈیاب(Lena Metlege Diab) نے مزید کہا کہ اسائلم درخواستوں میں تاخیر کی بنیادی وجوہات میں کیسز کی زیادتی، قانونی اپیلیں، اور سابقہ حکومت کے دور میں اسٹاف کی کمی شامل ہے۔

ارپن کھنہ (Arpan Khanna)نے لینا ڈیاب(Lena Metlege Diab) پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے کہا”یہ حکومت سابق حکومت سے بھی زیادہ نااہل ہے! وزیر امیگریشن، وزیرِ ماحولیات اور وزیرِ پبلک سیفٹی کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ انہیں اپنے کام کی الف ب کا بھی علم نہیں۔”

اس پر لینا ڈیاب(Lena Metlege Diab) نے جواب دیتے ہوئے کہا”یہ الزامات دراصل کینیڈا کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ ہم اپنے آئینی، اخلاقی اور عالمی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

امیگریشن اینڈ ریفیوجی بورڈ (IRB) کے مطابق، 2024 میں اسائلم کلیمز کی اوسط کارروائی 24 سے 48 ماہ میں مکمل ہوئی۔کلیم کے دوران محدود مدت کیلئے پناہ گزینوں کو عارضی مالی امداد، طبی سہولیات، رہائش، اور کام کرنے کا اجازت نامہ فراہم کیا جاتا ہے۔مسترد شدہ درخواستوں کیلئےاپیل کا حق موجود ہے اور کئی مراحل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے عمل طویل ہو سکتا ہے۔

بحث کے بعد سوشل میڈیا پر دونوں رہنماؤں کے بیانات وائرل ہو گئے ہیں۔جیکب فورڈ کو ان کے “صاف گو” رویے پر سراہا جا رہا ہے، نینسی چیوہان کی “انسانی بنیادوں پر ہمدردانہ پالیسی” کو بھی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں امیگریشن اور اسائلم پالیسیاں اہم انتخابی ایشوز بننے جا رہی ہیں خاص طور پر شہری اور سرحدی علاقوں میں۔

اپنا تبصرہ لکھیں