جب میرے والدین ایک دہائی سے کچھ زیادہ عرصہ پہلے کینیڈا آئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ ملک محنت کو پہچانتا ہے اور ہر شخص کو منصفانہ موقع دیتا ہے۔ مگر بچپن سے میں نے کبھی کسی بااختیار شخص میں اپنی جھلک نہیں دیکھی،ایک تارکِ وطن بچہ، مسلمان، بھوری رنگت والا، اور کبھی کبھی یہ سوچنے والا کہ وہ واقعی کہاں کا ہے۔یہ احساس اُس دن بدل گیا جب میں کیوبک میں مسی ساگا.ایرن ملز سے رکنِ پارلیمنٹ اقرا خالد سے ملا۔

یہ ملاقات مسی ساگا—ایرن ملز میں اُن کے ایک پُررونق کمیونٹی باربی کیو میں ہوئی۔ میں چند دوستوں کے ساتھ بس کھانے اور موسیقی کے مزے لینے گیا تھا—معمول کی ویک اینڈ موج مستی۔ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ میں وہاں خود کو پہلی بار “نظر آتا ہوا” محسوس کرونگا۔ مجھے یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں ایک ایسی ایم پی سے ملونگاجو ہر شخص کو خلوص سے ملتی ہے، بات سنتے وقت آنکھوں میں دیکھتی ہے، اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ لوگوں کے مسائل واقعی اہم ہیں۔

وہ محض ایک اور سیاستدان نہیں تھیں۔ وہ کوئی ایسی شخصیت تھیں جن کا سفر میرے جیسے سفر سے مشابہ تھا۔ جو کبھی وہیں کھڑی تھیں جہاں ہم میں سے بہت سے لوگ آج کھڑے ہیں—بڑی تمنائیں، محدود وسائل، اور ایک ایسا خاندان جو بہتر مستقبل کیلئےہر قربانی دینے کو تیار ہو۔ جب وہ پارلیمنٹ منتخب ہوئیں تو ایسا لگا جیسے ہم سب کی زندگی کی کتاب کا وہ باب آخرکار کھل گیا ہے جس کا ہم طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔

پہلی بار میں نے اوٹاوا میں کسی ایسے نمائندے کو دیکھا جس نے ثابت کیا کہ پاکستانی نژاد کینیڈین ہونا صرف ایک دعویٰ نہیں، بلکہ پوری کہانی کا مرکزی کردار بھی ہو سکتا ہے۔
“گزشتہ برسوں میں اقرا خالد نے یہ بھی ثابت کیا کہ نمائندگی سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے”
انہوں نے اسلاموفوبیا کیخلاف قومی سطح پر جدوجہد کی اور مشہور قرارداد ایم-103 کے ذریعے نفرت کے مسئلے کو نظرانداز ہونے سے روکا۔
وہ خواتین کے حقوق اور متاثرین کے تحفظ کیلئے آواز اٹھاتی رہی ہیں اور وقار و مساوات پر مبنی پالیسیاں تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ تارکینِ وطن اور نئے آنے والوں کی مضبوط و منصفانہ آبادکاری کیلئے کام کرتی رہی ہیں تاکہ خاندان بہتر زندگی گزار سکیں۔
نوجوانوں کی ذہنی صحت، تعلیم اور معاشی مواقع کیلئے مسلسل آواز بلند کرتی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ جوان نسل ایک محفوظ اور قابلِ برداشت مستقبل کی حقدار ہے۔
وہ مضبوط کمیونٹیز کیلئےہاؤسنگ، ٹرانزٹ اور سروسز جیسے اہم شعبوں کا دفاع کرتی ہیں۔
لیکن سچ کہوں تو مجھے سب سے زیادہ متاثر یہ چیز کرتی ہے کہ وہ لوگوں کو کیسا احساس دلاتی ہیں۔
اس دن باربی کیو میں انہوں نے ہمت، شناخت اور ان لیبلز کے بارے میں بات کی جو دوسروں کی جانب سے ہم پر تھوپے جاتے ہیں۔ وہ پراعتماد تھیں لیکن ساتھ ہی بے انتہا عاجزی بھی تھی،جیسے وہ کبھی اپنی جدوجہد اور اس سفر کو نہیں بھولیں۔ پہلی بار مجھے ایسا لگا کہ میں اس ملک میں تماشائی نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہوں اور یہ بہت اہم ہے۔
خاص طور پر آج، جب وہ صرف اس لیے آن لائن گھٹیا حملوں کا سامنا کرتی ہیں کہ وہ کون ہیں—ایک مضبوط عورت، ایک نظر آنے والی مسلم لیڈر، اور ایک ایسی آواز جسے بہت سے لوگ دبانا چاہتے ہیں۔اقرا خالد نے ہمیں دکھایا کہ طاقت کا مطلب شور نہیں ہوتا۔ طاقت صبر ہے۔ طاقت خدمت ہے۔ طاقت آگ سے گزر کر بھی دوسروں کیلئےکھڑا رہنا ہے۔
سب سے بڑھ کر، انہوں نے ہم جیسے نوجوان تارکینِ وطن کو دکھایا کہ قیادت کوئی ایسی چیز نہیں جس کیلئےہمیں اجازت کا انتظار کرنا پڑے.یہ وہ چیز ہے جسے ہمیں خود اختیار کرنا ہوتا ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ میرا سفر مجھے سیاست تک لے جائے گا یا نہیں۔ لیکن ایک بات یقینی ہے انہیں دیکھ کر، ان سے مل کر، اور ان جیسے لوگوں کو آگے بڑھتے دیکھ کر میں آج زیادہ پُراعتماد، زیادہ پُرعزم اور زیادہ باہمت محسوس کرتا ہوں۔
اقراخالد نے صرف اپنے لئے جگہ نہیں بنائی—انہوں نے ہمارے لئے دروازے کھولے ہیں اور ہم جیسے تارکینِ وطن کے بچوں کیلئے سچ کہوں تو اس کی قیمت الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔
بشکریہ :شمریز

